بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

جس موبائل میں گانے بجانے ہوں اس میں قرآن مجید ایپ رکھنا


سوال

جس موبائل فون میں قرآن مجید ایپلیکیشن ہویا حدیجس موبائل فون میں قرآن مجید ایپلیکیشن ہویا حدیث کی کتابیں ہوں یا پی ڈی ایف کی شکل میں مختلف اسلامی کتابیں موجود ہوں، تو اسی موبائل فون پر فلمیں، گانے، غیر محرم کی تصاویر یا نہ چاہتے ہوئے غیر ارادی طور پر بھی مختلف قسم کے تصویریں آجاتی ہیں، تو ایسے موبائل میں قرآن مجید ایپ رکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے موبائل فون میں قرآن مجید ایپلیکیشن یا احادیث کی کتابیں یا پی ڈی ایف کی شکل میں مختلف اسلامی کتابیں رکھنا جائز ہے، اور جو لوگ موبائل میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں ان کی تلاوت درست ہے اور ان کو ثواب بھی ملتا ہے، البتہ مصحف میں دیکھ کر پڑھنا بہتر ہے۔نیز موبائل ہو یا دیگر الات ان میں فلمیں، گانے دیکھنا یا سننا بہر صورت ناجائز و حرام ہے چاہے  موبائل میں قرآن مجید ایپ یا اسلامی کتابیں ہوں یا نہ ہوں۔

لہٰذا بہر حال موبائل کو فلم، گانا، موسیقی اور نامناسب تصاویر وغیرہ سے صاف رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے،تاہم پھر بھی اگر کوئی شخص ایسے موبائل میں قرآن مجیدایپ رکھےتو اس کی گنجائش ہے بشرطیکہ قرآن مجید کا ادب واحترام ملحوظ ہو، کہ جب قرآن مجید موبائل کی  ڈسپلے پر کھلا ہوتو اس  وقت ایسا عمل نہ کیا جائے جس میں بے ادبی کا شائبہ ہو۔

 

﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ﴾ الآية.....قالت ‌الفقهاء ‌الغناء ‌حرام ‌بهذه ‌الآية ‌لكونه ‌لهو ‌الحديث. (التفسير المظهري، سورة لقمان:6، ج:7، ص:248)

وعن جابر-رضي الله تعالى عنه- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (الغناء) : بكسر الغين ممدودا أي: التغني (ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع): يعني الغناء سبب النفاق ومؤد إليه.....وقال النووي في الروضة: غناء الإنسان بمجرد صوته مكروه وسماعه مكروه، وإن كان سماعه من الأجنبية كان أشد كراهة. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الآداب، باب البيان والشعر، الفصل الثالث، ج:9، ص:58)

أنه يجب على القارئ احترامه ‌بأن ‌لا ‌يقرأه ‌في ‌الأسواق ‌ومواضع ‌الاشتغال، فإذا قرأه فيها كان هو المضيع لحرمته، فيكون الإثم عليه دون أهل الاشتغال دفعا للحرج. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلوة، فصل في القراءة، ج:1، ص:546)


فتویٰ نمبر : 6284/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں