بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

"تحدید سماعت دعوی" کاحکم اوروراثت میں گواہی کا انتقال


سوال

کیا 70 یا 80 سال کے بعد جب کہ بائع ،مشتری اور گواہان سب فوت ہو چکےہوں، بائع کے بیٹے یہ  دعوی کرسکتےہیں کہ ہمارے باپ نے یہ چیز فروخت نہیں کی تھی؟نیز  اگر کسی معاملہ کے گواہ فوت ہوچکےہوں ،تو اس کےبیٹے کیاباپ کی جگہ گواہی دے سکتےہیں؟

جواب

فقہاےکرام کی تصریحات کے مطابق اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر شرعی کے چھتیس سال    تک اپنے حق کا مطالبہ نہ کرے، تو اس کے بعد اس   کو یا اس کے ورثا کو عدالت میں مطالبے کی اجازت نہیں ہوگی ۔نیز حق حاصل نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سرے سے اس کاحق ہی ساقط(باطل) ہوا ، بلکہ صرف معاملات میں غلط بیانی ،حیلہ بازی اور غیرمعینہ مدت تک لٹکنے سے بچنے کے واسطے فقہاےکرام نےچھتیس سال کے بعد دعوی نہ سننے کا قول کیاہے، کیونکہ اتنی بڑی مدت تک بغیر کسی شرعی عذر کے اپنے حق کے مطالبہ سے باز آناظاہراً حق   نہ ہونے کی دلیل ہے ،جبکہ      دیانتاً (فی مابینہ وبین اللہ) لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود حق ساقط نہیں ہوتا۔ چنانچہ  اگر حاکم /قاضی کو مدعی کی صداقت اور صاحب حق ہونے کاعلم ہوجائے یامدعی علیہ خود حق کااقرار کرے ،تو اس صورت میں مدعی کےلیےعدالت میں  دعوی کا حق حاصل ہوگا۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ میراث میں  وہ اموال وحقوق منتقل ہوتے ہیں جوانتقال کی صلاحیت رکھتے ہوں ، لہذا جو حقوق وذمہ داریاں قابل انتقال نہ ہوں،بلکہ میت کی ذات کے ساتھ خاص ہوں جیسے:گواہی وغیرہ، تو  یہ حقوق میت کی وفات سے ختم ہوجاتےہیں، اور آگے ورثہ کی طرف منتقل نہیں ہوتے۔

صورت مسئولہ میں بائع کے  بیٹوں کو80،70 سال بعد دعوی کرنے کا اختیارحاصل نہیں ہے،نیز گواہی  قابل انتقال نہیں،بلکہ یہ حامل شہادت کے ساتھ خاص ہوتی ہے، لہذاباپ کی وفات کے بعد بیٹے اس کی گواہی نہیں دے سکتے۔

 

قد استفيد من كلام الشارح أن عدم سماع الدعوى بعد هذه المدة إنما هو للنهي عنه من السلطان فيكون القاضي معزولا عن سماعها لما علمت من أن القضاء يتخصص؛ فلذا قال إلا بأمر أي فإذا أمر بسماعها بعد هذه المدة تسمع، وسبب النهي قطع الحيل والتزوير، فلا ينافي ما في الأشباه وغيرها من أن الحق لا يسقط بتقادم الزمان اهـ؛ ولذا قال في الأشباه أيضا: ويجب عليه سماعها اهـ: أي يجب على السلطان الذي نهى قضاته عن سماع الدعوى بعد هذه المدة أن يسمعها بنفسه، أو يأمر بسماعها، كي لا يضيع حق المدعي، والظاهر أن هذا حيث لم يظهر من المدعي أمارة التزوير، وفي بعض نسخ الأشباه: ويجب عليه عدم سماعها وعليه فالضمير يعود للقاضي المنهي عن سماعها، لكن الأول هو المذكور في معين المفتي.(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب القضاء، فصل فی الحبس، فروع القضاء مظہر لامثبت ویتخصص، ج:5، ص:420)

وفي جامع الفتوى عن فتاوى العتابي قال المتأخرون من أهل الفتوى: لا تسمع الدعوى بعد ست وثلاثين سنة إلا أن يكون المدعي غائبا أو صبيا أو مجنونا وليس لهما ولي أو المدعى عليه أميرا جائرا اهـ. ونقل ط عن الخلاصة لا تسمع بعد ثلاثين سنة اهـ. ثم لا يخفى أن هذا ليس مبنيا على المنع السلطاني بل هو منع من الفقهاء فلا تسمع الدعوى بعده وإن أمر السلطان بسماعها.(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب القضاء، فصل فی الحبس، فروع القضاء مظہر لامثبت ویتخصص، ج:5، ص:422)

وقال المتأخرون من أهل الفتوى: لا تسمع الدعوى بعد ست وثلاثين سنة إلا أن يكون المدعي غائبا أو صبيا أو مجنونا ليس لهما ولي، أو المدعى عليه أميرا جائزا يخاف منه كذا في الفتاوى العتابية.(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الخنثی، مسائل شتّی، ج:6، ص:742)

استظهر المصنف لا لتصريحهم بأن ‌الحقوق ‌المجردة ‌لا ‌تورث.قلت: وفي حاشية الاشباه لابن المصنف: وبه أفتى شيخنا العلامة على المقدسي مفتي مصر.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، ص:426)

‌(لأن ‌كل ‌واحد ‌منهما ‌من ‌باب ‌الولاية) لأن كل واحد من القضاء والشهادة من باب الولاية وهي تنفيذ القول على الغير شاء أو أبى.(العناية، کتاب أدب القاضي، ج:7، ص:253)                                                                                                                                             


فتویٰ نمبر : 10463/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں