بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

جانورکوپالنےکےلئےنصف پردینا


سوال

ایک شخص نے اسی ہزار(80000) روپے کی بھینس خریدی اور دوسرے شخص کو پالنے کے لیے اس شرط پر دی کہ فروخت کرنے کے بعد راس المال کے علاوہ نفع دونوں کے مابین نصف نصف تقسیم ہوگا ، کیا اس طرح کرنا شرعا جائز ہو گا یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ ایک طرف سے محنت ہو اور دوسری طرف سے  اس کامعاوضہ تو اس کو اجارہ کہتے ہیں۔اور اجارہ میں اجرت اور مدت متعین ہونا ضروری ہے ۔

سوال میں مذکور صورت کہ ایک شخص بھینس خرید کر دوسرے کوپالنے  کے لئے اس شرط پر دےکہ فروخت کے بعد منافع  نصف نصف تقسیم ہونگے ،یہ معاملہ شرعا صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ حقیقت میں اجارے کا معاملہ ہے جو اجرت اور مدت کی جہالت کی وجہ سے فاسد ہے، اجارہ فاسدہ کی صورت میں طے شدہ اجرت نہیں ملتی بلکہ اس جیسے کام پر جتنی اجرت دینے کا رواج ہو، کام کرنے والے کو اس کا استحقاق ہوتا ہے  جسے اجرت مثل کہا جاتا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں پا لنے والےکواجرت مثل ملے گی اور جانوروں کی پوری قیمت جتنی بھی بنتی ہو مالک کو ملے گی البتہ اس دوران جانور کے علاج معالجے اور چارے وغیرہ پر جو اخراجات کئے جاتے ہیں ان کی ادائیگی مالک کے ذمے لازم ہے۔نیز ایسے معاملے کے جواز کی صورتیں یہ ہیں:

۱۔ایک صورت یہ ہے کہ جانور پالنے والےکی اُجرت متعین کی جائے، تو اس صورت میں دودھ ،بچےاور نفع نقصان سب مالک کاہوگااورپالنےوالے کو  متعینہ اُجرت ملے گی۔

۲۔جانور کامالک آدھا حصہ آدھی قیمت پر  پالنے والے کو  بیچ کروہ پیسے معاف کردے تو  دونوں کے درمیان وہ جانور مشترک ہوجائے گا پھر دونوں اس جانور کے دودھ بچوں اور نفع نقصان میں برابر کے شریک ہوں گے ۔

۳۔دونوں پیسے ملاکر جانور  خریدیں اس صورت میں ہر ایک اپنی مالیت کے بقدرجانور کامالک ہوگا،اور اسی طرح مالیت کے حساب سے دودھ اور بچوں میں بھی شریک ہوں گے ۔

 

(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة.(رد المحتار علی الدرالمختار ،كتاب الإجارة،باب إجارة الفاسدة،ج:9 ،ص:64)

دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما وكذا لو دفع الدجاج على أن يكون البيض بينهما أو بزر الفيلق على أن يكون الإبريسم بينهما لا يجوز والحادث كله لصاحب الدجاج والبزر.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب الخامس عشرفي بيان ما يجوز من الإجارة وما لا يجوز،ج:4،ص:481)

(و) تفسد (بجهالة المسمى) كله أو بعضه كتسمية ثوب أو دابة أو مائة درهم على أن يرمها المستأجر لصيرورة المرمة من الأجرة فيصير الأجر مجهولا (و) تفسد (بعدم التسمية) أصلا أو بتسمية خمر أو خنزير (فإن فسدت بالأخيرين) بجهالة المسمى وعدم التسمية (وجب أجر المثل) يعني الوسط منه ولا ينقص عن المسمى لا بالتمكين بل (باستيفاء المنفعة) حقيقة كما مر (بالغاما بلغ) لعدم ما يرجع إليه ولا ينقص عن المسمى.(رد المحتار علی الدرالمختار،كتاب الإجارة،باب إجارة الفاسدة ،ج:9 ،ص:66)


فتویٰ نمبر : 3777/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں