بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نذر کو شرط کے ساتھ معلق کرنا


سوال

ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں دو لاکھ  روپے اللہ کے نام پر دوں گا ،اب کام ہوا ہے تو کیا اب وہ شخص ان پیسوں کو رفاہی کام مثلاً ہینڈ پمپ ،کنواں بنانے  میں خرچ کرسکتاہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص  نذر کو کسی  شرط کے ساتھ معلق کردے تو شرط کے موجود ہونے کے ساتھ نذر کی ادائیگی واجب ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص یہ نذر مانے کہ” اگر میرا یہ کام ہوگیا تو میں  دو لاکھ  روپے اللہ کے نام پر دوں گا“ ،اوروہ کام ہو جائے، تو اس پر  دو لاکھ  روپے اللہ کے نام پر دینا واجب ہے، اور  نذر کی رقم  چونکہ صدقات واجبہ میں سے ہے جوکسی مستحق زکوۃ  کی ملکیت میں دینا  ضروری ہے، اس لیے تملیک کے بغیر نذر کی رقم رفاہی کاموں  میں خرچ کرنا جائز نہیں بلکہ مستحق زکوۃ کی ملکیت میں دینے سے نذر کی ادائیگی درست ہوگی۔


(ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث "من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى"( كصوم وصلاة وصدقة)۔ (الدر المختار علی صدر ردالمحتار، كتاب الأيمان، ج5، ص516،517(

(أي مصرف الزكاة والعشر ) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، ج:3، ص:283)


فتویٰ نمبر : 10424/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں