بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نماز کے بعد استغفار پڑھنا


سوال

 لوگ عموماً فرض نماز کے بعد تین مرتبہ  "استغفار" پڑھتے  ہیں، توکیا یہ عمل مسنون ہے یا نہیں؟

جواب

صحیح مسلم میں حضرت ثوبانؓ سے روایت  ہے کہ آپ ﷺجب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار پڑھتے۔اس حدیث سے  معلوم ہوا کہ نماز کے بعد استغفار پڑھنا آپﷺ کاعمل تھا اس وجہ سے اس کو سنت شمار کیا جا سکتا ہے لیکن اس کونماز کا لازم جز سمجھنایا نہ پڑھنے والوں کو ملامت کرنا درست نہیں۔

 

عن ثوبان قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا انصرف من صلاته استغفر ثلاثا وقال:اللهم أنت السلام ومنك السلام، تباركت ذا الجلال والإكرام قال الوليد: فقلت للأوزاعي:كيف الاستغفار؟ قال: تقول: أستغفرالله، أستغفر الله.(صحيح لمسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته، رقم الحديث:591)

ويستحب أن يستغفر ثلاثا ويقرأ آية الكرسي والمعوذات ويسبح ويحمد ويكبر ثلاثا وثلاثين.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ص:73)


فتویٰ نمبر : 10421/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں