بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسنون حفاظتی دعا ئیں پڑھنے کے باوجود نقصان پہنچنا


سوال

بعض دعائیں جن کے بارے میں ذکر ہے کہ صبح پڑھے تو شام تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور شام کو پڑھے تو صبح تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اسی طرح آیت الکرسی کے بارے میں ہے کہ آپ کو نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس کے باوجود بندے سے مال چوری ہو جائے یا نقصان پہنچ جائے تو یہ ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ کیا اس طرح مصائب کاآنایقین کی کمزوری کی وجہ سےہوتاہے؟

جواب

واضح رہے  کہ دعاؤں اور اذکار کی فضیلت اور اثرات کاتعلق اللہ تعالی کی مشیت سے ہے،مسنون دعاؤں اور اذکار کے ذریعے اگر چہ اللہ تعالی انسان کی ­­­­­­حفاظت فرماتے ہیں ،تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ بندے کو سرےسے مشکلات اورمصائب ہی نہ پہنچیں،کیونکہاللہ تعالیٰ کی حکمت میں بعض اوقات آزمائشیں بھی شامل ہوتی ہیں، اور ان کا مقصد بندے کے درجات بلند کرنا یا گناہوں کا کفارہ بنانا ہو تاہے۔نیزیقین کامل (یقین محکم) بھی عبادات اور دعاؤں کی قبولیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، اگر کسی بندے کا یقین کمزور ہو تو اس کا  یہ مطلب  نہیں کہ اس کی دعائیں بالکل قبول نہیں ہوں گی یا اسے نقصان ضرور پہنچے گا۔

لہذا  آیت الکرسی اور صبح و شام کے اذکار کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے اور یہ حفاظت کا ذریعہ  بھی بنتے ہیں،لیکن اگراس کے باوجود کسی کو نقصان پہنچ جائے تو  یہ اس کی تقدیر میں لکھا ہواہوگا  ؛اس لئے کہ  دعا تو صرف اسبا ب کے درجہ میں ہوتی ہے۔اسی طرح یہ گناہوں کا اثر بھی ہوسکتا ہے۔

 

عن ثوبان، رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌يرد ‌القدر ‌إلا ‌الدعاء، ولا يزيد في العمر إلا البر، وإن العبد ليحرم الرزق بذنب يذنبه(الطبراني، باب ماجاء في لزوم الدعاء والإلحاء,ص30،رقم الحديث 31)

عن عبد الله. قال:دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يوعك. فمسسته بيدي. فقلت: يا رسول الله! إنك لتوعك وعكا شديدا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "أجل. إني أوعك كما يوعك رجلان منكم" قال فقلت: ذلك، أن لك أجرين. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "أجل" ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "‌ما ‌من ‌مسلم ‌يصيبه ‌أذى ‌من ‌مرض فما سواه، إلا حط الله به سيئاته، كما تحط الشجرة ورقها".(الصحيح للامام مسلم ،باب باب ثواب المؤمن فيما يصيبه۔۔۔ رقم الحديث،2571:ج،4:ص،1991،)

عن الأسود، قال:دخل شباب من قريش على عائشة، ‌وهي ‌بمنى. ‌وهم ‌يضحكون. فقالت: ما يضحككم؟ قالوا: فلان خر على طنب فسطاط، فكادت عنقه أو عينه أن تذهب. فقالت: لا تضحكوا. فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "ما من مسلم يشاك شوكة فما فوقها، إلا كتبت له بها درجة، ومحيت عنه خطيئة".( الصحيح للامام مسلم ،باب باب ثواب المؤمن فيما يصيبه۔۔۔ رقم الحديث،2572):ج،4:ص،1991)

قوله صلى الله عليه وسلم (مامن مسلم ‌يشاك ‌شوكة فما فوقها إلا كتبت له درجة ومحيت عنه بها خطيئة)...في هذه الأحاديث بشارة عظيمة للمسلمين فإنه قلما ينفك الواحد منهم ساعة من شئ من هذه الأمور وفيه تكفير الخطايا بالأمراض والاسقام ومصايب الدنيا وهمومها وإن قلت مشقتها وفيه رفع الدرجات بهذه الأمور وزيادة الحسنات وهذا هو الصحيح الذي عليه جماهير العلماء وحكى القاضي عن بعضهم أنها تكفر الخطايا فقط ولا ترفع درجة ولا تكتب حسنة.(شرح النووي علی مسلم باب ،ثواب المؤمن فيما يصيبه:ج16،ص128)


فتویٰ نمبر : 6360/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں