بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

حلق کرنے سے پہلے احرام کھولنا


سوال

اگر عمرہ کرنے کے بعد کوئی شخص حلق کروانے سے پہلے اپنا احرام غلطی سے کھول دے اورکپڑے پہن لے،اور اس کے علم میں نہ ہو کہ احرام کھولنا حلق سے پہلے منع ہےاور دوسرے دن اس کو پتہ چل جائے تو اس صورت میں اس پر   دم دینا ہوگایا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عمرہ کی تکمیل کے لیے حلق یا قصر کرناضروری ہے،  جب تک حلق یا قصر نہ کر لیا جائے، احرام کی پابندیاں باقی رہتی ہیں۔ لہٰذا حلق یا قصر کیے بغیر احرام کی حالت سے نکلنا درست نہیں۔نیز احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے پہننا ممنوع ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص پورے ایک دن کی مقداریا ایک رات کی مقدارتک سلے ہوئے کپڑے پہنے تو اس پر دم لازم ہوگا، اوردم کو حدود حرم میں ہی ذبح کرنا لازم ہےالبتہ اگر ایک دن کی مقدار یا ایک رات کی مقدار سے کم وقت کے لیے سلے ہوئے کپڑے پہنے تو پھر صدقہ فطر کی مقدار کے برابر صدقہ کرنا واجب ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر عمرہ کرنے والا کوئی شخص حلق کروانے سے پہلے کپڑے پہن لے اور دوسرے دن اس کو علم ہو جائےکہ احرام کھولنے سے پہلے حلق کرنا ضروری ہے تو اس پر حدود حرم میں دم ذبح کرنا لازم ہے۔

 

أما الأول فالحلق أو التقصير واجب عندنا إذا كان على رأسه شعر لا يتحلل بدونه. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الحج، فصل الحلق أو التقصير، ج:2، ص:140)

‌(‌أو ‌لبس ‌مخيطا) لبسا معتادا، ولو اتزره أو وضعه على كتفيه لا شيء عليه (أو ستر رأسه) بمعتاد إما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه (يوما كاملا) أو ليلة كاملة، وفي الأقل صدقة (والزائد) على اليوم (كاليوم).

(قوله يوما كاملا أو ليلة) الظاهر أن المراد مقدار أحدهما فلو لبس من نصف النهار إلى نصف الليل من غير انفصال أو بالعكس لزمه دم كما يشير إليه قوله وفي الأقل صدقة شرح اللباب (قوله وفي الأقل صدقة) أي نصف صاع من بر، وشمل الأقل الساعة الواحدة أي الفلكية وما دونها خلافا لما في خزانة الأكمل أنه في ساعة نصف صاع وفي أقل من ساعة قبضة من بر. (رد المحتار، كتاب الحج، باب الجنايات في الحج، ج:2 ، ص:547)

في ‌كل ‌موضع ‌إذا ‌فعل مختارا يلزمه الدم كاللبس والحلق والتطيب والقلم إذا فعل ذلك بعلة أو ضرورة فعليه أي الكفارات شاء كذا في شرح الطحاوي وذلك إما النسك أو الصدقة أو الصوم فإن اختار النسك ذبح في الحرم كذا في المحيط وإن ذبح في غير الحرم لا يجوز عن الذبح إلا إذا تصدق بلحمه على ستة مساكين على كل واحد منهم قيمة نصف صاع من الحنطة كذا في شرح الطحاوي. ( الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، الفصل الرابع في الجماع في الحج والعمرة، ج:1، ص:244)


فتویٰ نمبر : 10419/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں