بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ سے بچنے کے لیے زیورات بیٹیوں کے نام کرنا


سوال

کسی عورت کے پاس 8تولے سونا  اور کچھ  نقد رقم ہو ،اور وہ  زکوۃ سے بچنے کے لیے 5 تولہ سونا اپنی بیٹیوں کے نام کر دے تو کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ نیز اس سے بقیہ 3 تولہ سونا سے  زکوۃ ساقط ہو گی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر زکوۃ واجب نہ ہوئی ہو تو زکوۃ سے بچنے کے لیے حیلہ  اختیار کرنا مفتیٰ بہ قول کے مطابق مکروہ ہے ،البتہ ایک مرتبہ زکوۃ واجب ہو جائے  تو اس کے بعد بہر صورت زکوۃ دینا واجب ہو جاتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے کوئی حیلہ اختیار نہیں کیا جا سکتا ۔نیز بلا عوض کسی کو اپنی مملوکہ چیز کا مالک بنا دینا ہبہ کہلاتا ہے ،ہبہ کے لیے ضروری ہے کہ موہوب لہ اس چیز  پر قبضہ کر لے ۔بغیر قبضہ کے ہبہ تام متصور نہیں ہو گا تاہم نابالغ بچوں کے لیے باپ کا ہبہ صرف عقد سے تام ہو جاتا ہے ان کو قبضہ دینا ضروری نہیں ۔ لیکن اگر ماں نابالغ بچوں کے لیے ہبہ کرے اور ان کا باپ  زندہ ہو تو وہ   باپ ان کی طرف سے قبضہ کرے گا یا باپ کی عدم موجودگی میں بچے جس کی ولایت میں ہوں اس کے قبضہ سے ہبہ تام ہو گا ۔

صورت مسئولہ کے  مطابق اگر کسی عورت کے پاس 8آٹھ تولے سونا ہو اور اس پر سال بھی گزر چکا ہو تو سونے میں زکوۃ واجب ہو گی اور  واجب شدہ زکوۃ سے بچنے کے لیے حیلہ کے طور پر 5 پانچ  تولہ سونا بیٹیوں کے نام کرنے سے زکوۃ ساقط  نہ ہو گی ،اور اگر سال گزرنے سے پہلے آٹھ تولہ سونے میں سے پانچ  تولہ سونا بیٹیوں کو ہبہ کردے تو اگر وہ بالغ ہو ں تو ان کو قبضہ دینے سے وہ مالک بنیں گی اور اگر نابالغ ہوں اور ان کا باپ زندہ ہو تو وہ ان کی طرف  سے قبضہ کرے گا یا باپ کی عدم موجودگی میں جس کی ولایت میں ہو ں وہ قبضہ کرے گا اور اگر بچیاں ماں کی پرورش میں ہوں تو سونا ان کے نام کرنے سے ہبہ تام ہو  جائے گا،ہبہ تام  ہونے کی صورت میں بچیاں پانچ تولہ سونے کی مالک شمار ہوں گی پھر اگر ماں کے پاس بقیہ 3 تولہ سونے کے ساتھ ساڑھے اکتیس تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر بقدی یا سامان تجارت نہ ہو تو اس پر زکوۃ لازم  نہ ہو گی ۔

 

(‌وهبة ‌الأب ‌لطفله تتم بالعقد)... وكذا لو وهبته أمه وهو في يدها ‌والأب ‌ميت ‌وليس له وصي، وكذا كل من يعوله.( تبيين الحقائق، كتاب الهبة، ج:5،ص:95-96)

ويضم الذهب إلى الفضة،والفضة إلى الذهب ،ويكمل إحدى النصابين بالآخر عند علمائنا ...ثم قال أبو حنيفة: يضم باعتبار القيمة...وقال أبو يوسف و محمد: يضم باعتبار الأجزاء. (الفتاوى التا تارخانِيه،كتاب الزكاة،ج:2،ص:174)

"الاحتيال لمنع وجوب الزّكاةلا بأس به، وقال بعضه: هو مكروه،وفيه إثم،و في المنظومة في مقالة أبي يوسف و محمد _رحمهما الله_ : و الاحتيال لإمتناع الشفعةأو الزكاة مطلق في الشريعة، وفي المصفىىّٰ:والفتوىٰ في الشّفعة على قول أبي يوسف وفي الزكاة على قول محمد. وفي الفتاوى العتابيه:لا يحلّ لإسقاط الزكاة بعد الوجوب.(الفتاوى التا تارخانِيه،كتاب الزكاة،الفصل الحادي عشرفي الاسباب المسقطه للزكاة،ج:3 ،ص:237)


فتویٰ نمبر : 10424/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں