بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

حالت تشہد میں ہاتھوں کی انگلیوں کا گھٹنوں سے آگے بڑھنا


سوال

التحیات میں بیٹھے ہوئے کسی شخص کی نگلیاں اگرگھٹنوں سے آگے بڑھ جائیں تو لوگوں میں مشہور ہے کہ قیامت میں آگے بڑھی ہوئی انگلیاں کاٹ دی جائیں گی،شرعی لحاظ سے انگلیاں آگے بڑھ جائیں تو کوئی حرج تو نہیں؟

جواب

قعدہ میں ہاتھ  رکھنے کا افضل اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان  کو ران پر اس طرح رکھاجائےکہ گھٹنے کی ابتدا تک انگلیاں آجائیں اور ان کارخ قبلہ کی جانب ہوجائے، ہاتھوں  سے گھٹنوں  کو اس طرح نہ پکڑا جائے  کہ انگلیوں  کا رخ زمین کی طرف ہوجائے۔تاہم گھٹنوں سے آگے بڑھنے کی صورت میں انگلیوں کا قیامت کے دن کاٹا جانا   کسی  دلیل شرعی سے ثابت نہیں ، لہذااس قسم کی باتوں سے اجتناب کرنا  لازم ہے۔

 

‌"ويضع ‌يمناه ‌على ‌فخذه ‌اليمنى ‌ويسراه ‌على ‌اليسرى، ‌ويبسط ‌أصابعه) مفرجة قليلا (جاعلا أطرافها عند ركبتيه) ولا يأخذ الركبة، هو الأصح لتتوجه للقبلة"..."(قوله ‌ولا ‌يأخذ ‌الركبة) أي كما يأخذها في الركوع؛ لأن الأصابع تصير موجهة إلى الأرض خلافا للطحاوي، والنفي للأفضلية لا لعدم الجواز كما أفاده في البحر". (ردا المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:508)

 


فتویٰ نمبر : 10414/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں