بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے تہہ خانے میں درس وتدریس ،اور اساتذہ کے لیے دار الإقامہ بنانا


سوال

ہم  نے اپنے مدرسہ  میں مسجد بنانے کا ارادہ کیا  ہے، جس کےلیے ہمارے پاس مدرسہ کےلیے وقف کی گئی زمین  میں سے کچھ زمین ہے اور کچھ زمین ایک  شخص نے مسجد کےلیے وقف کی ہے۔ اب ہمارہ ارادہ کچھ یوں ہے کہ ہم پہلے تہہ خانہ میں  مدرسہ کی ضروریات کےلیے  تعمیر کریں گے، پھر بالائی حصہ پر مسجد کی تعمیر کریں گے جس کی وجہ سے کچھ سوالات کی ضرورت پڑگئی۔

(1) جس شخص نے مسجد کےلیےجو زمین وقف کی ہے تو اس   کےحصہ  کے  تہہ خانہ میں مدرسہ کی ضروریات (درس وتدریس،اساتذہ کے دارالاقامہ بنانے )کےلیے تعمیرواقف  کی اجازت کے بغیر جائز ہوگی، یا نہیں؟

(2) جب تہہ خانہ پر کام شروع ہوجائے تو مسجد کا چندہ اس میں استعمال کرسکتے  ہیں ،یا نہیں ؟ یا  چندہ دینے والے  سے اجازت لیں گے؟

(3) مدرسہ کا چندہ مسجد کی تعمیر میں یا تعمیر کے بعد ضروریاتِ مسجد میں استعمال کرسکتے ہیں،  یا نہیں؟

جواب

واقف  جو چیز جس مقصد کےلیے وقف کرے اور اس  مقصد میں ایک مرتبہ استعمال ہوجائےتو اس سے وقف تام ہوجاتا ہے اور وقف تام ہونے کے بعد نہ واقف کو رجوع کا حق حاصل ہوتا ہےاور نہ واقف یا کسی اور کےلیےکسی قسم کا تصرف کرنا جائز ہو تاہے، البتہ وقف تام ہونے سے پہلے اگر واقف کوئی شرط لگائے تو اس شرط کا اعتبار کیا جائے گا ۔نیزجس مسجد سے مدرسہ ملحق ہو،دونوں کا چندہ  مشترکہ طور پر  ہوتا ہو،اور دونوں ایک نظام کے تحت چلتے ہوں ،اور چندہ دینے  والے جانتے ہوں کہ ہمارا چندہ ان دونوں میں مشترکہ طور پر خرچ کیا جاتا ہے تو پھر ہر ایک کی  آمدنی دوسرے پر خرچ کرنا جائز ہے، اس تمہید کی روشنی  میں درج بالا سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں :

(1) جو زمین مسجد کے لیے وقف کی گئی ہے تو مسجد کے مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کےتہہ خانہ میں دینی علوم کی درس وتدریس جائز ہے ،جبکہ  مدرسین کے لیے دارالاقامہ بنانا مسجد کے مصالح میں سے نہیں ،اور جو چیز مسجد کے مصالح میں داخل نہ ہو، تو اس کا بنانا جائز نہیں

 (2) اگر مذکورہ مسجد مدرسہ کے زیر انتظام ہو ،ایک دوسرے کے تابع بھی ہوں ،توچونکہ اس صورت میں عموماً لوگ چندہ مشترکہ طور پر دیتے ہیں،اس لیے ہر ایک کی  آمدنی دوسرے پر خرچ کرنا جائز ہے،البتہ اگر چندہ دینے والا کسی خاص مصرف کی تعیین کردے، تو پھر چندہ کو اسی خاص مصرف میں خرچ کرنا ضروری ہو گا۔

 

والحاصل أن التسليم على قول من يشترط التسليم وهو محمد يكون بأحد طريقتين: ‌إما ‌بإثبات ‌اليد ‌للقيم ‌عليها أو بحصول المقصود وذلك بالسكنى في مسألة الدار، وبالنزول في مسألة الخان، وبالدفن في مسألة المقبرة وما أشبهه ذلك۔ ( المحيط البرهاني، كتاب الوقف، ‌‌الفصل الثاني والعشرون: في المسائل التي تعود إلى الرباطات، ج: 7، ص: 143)

"شرط الواقف يجب اتباعه لقولهم:‌‌ ‌شرط ‌الواقف ‌كنص الشارع أي في وجوب العمل به،وفي المفهوم والدلالة"۔( الأشباه والنظائر، كتاب الوقف، ص: 163)

"على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة." (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، فصل في إجارة الواقف، فصل في المصادفة على النظر، ج:4، ص: 445)

‌"لأن ‌المسجد ‌ما ‌بني ‌إلا ‌لها ‌من ‌صلاة واعتكاف وذكر شرعي وتعليم علم وتعلمه وقراءة قرآن".(البحر الرائق، کتاب الصلاة،باب مايفسد الصلاة ومايکره فيها، ج:2، ص:36)

"(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر...........(قوله: ثم ما هو أقرب لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته وفضل من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة وهو عمارته المعنوية التي هي قيام شعائره قال في الحاوي القدسي: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة،وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم،ثمالسراج والبساط كذلك إلى آخرالمصالح". (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج:4، ص:367)

"وقد تقرر في فتاوى خوارزم أن الواقف ومحل الوقف أعني الجهة إن اتحدت بأن كان وقفا على المسجد أحدهما إلى العمارة والآخر إلى إمامه أو مؤذنه والإمام والمؤذن لا يستقر لقلة المرسوم للحاكم الدين أن يصرف من فاضل وقف المصالح والعمارة إلى الإمام والمؤذن باستصواب أهل الصلاح من أهل المحلة إن كان الواقف متحدا لأن غرض الواقف إحياء وقفه وذلك يحصل بما قلنا أما إذا اختلف الواقف أو اتحد الواقف واختلفت الجهة بأن بنى مدرسة ومسجدا وعين لكل وقفا وفضل من غلة أحدهما لا يبدل شرط الواقف.وكذا إذا اختلف الواقف لا الجهة يتبع شرط الواقف وقد علم بهذا التقرير إعمال الغلتين إحياء للوقف ورعاية لشرط الواقف هذا هو الحاصل من الفتاوى...وقد علم منه أنه لا يجوز لمتولي الشيخونية بالقاهرة صرف أحد الوقفين للآخر".(البحر الرائق، كتاب الوقف، ج:2، ص:234)

‌"الوكيل ‌إنما ‌يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره".(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكوٰة، ج:2، ص:269)


فتویٰ نمبر : 6199/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں