بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

"اگرمیں نے اپنےدوست کے گھر سے پانی پیا تو میں اپنے باپ سے نہیں ہوں گا" کہنے سے قسم کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص اس طرح کہے کہ"اگرمیں نے اپنےدوست کے گھر سے پانی پیا  تو میں اپنے باپ سے نہیں ہوں گا" کیا  ایسا جملہ کہنے سے یمین منعقد ہوجاتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قسم کے وقوع  کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اسم ذات"اللہ " کے ساتھ قسم  کھائی جائےیا اسم صفت کے ساتھ، جیسے:الرحمٰن ، الرحیم یا اللہ تعالیٰ کے کسی ایسی صفت کی قسم اٹھائی جائے جس پر قسم کھانا متعارف ہو، جیسے اللہ تعالیٰ کی عزت اور کبریائی کی قسم کھانے سے قسم واقع ہوجاتی ہے۔

صورت مسئولہ میں یہ کہنا کہ"اگرمیں نے اپنےدوست کے گھر سے پانی پیاتو میں اپنے باپ سے نہیں ہوں گا"یہ قسم نہیں، کیونکہ اس میں باری تعالیٰ کےاسم ذات پر قسم  نہیں، لہٰذا ان الفاظ کے کہنے سے یمین منعقد نہیں ہوتی۔

 

"واليمين بالله تعالى أو باسم آخر من أسماء الله تعالى كالرحمن والرحيم أو بصفة من صفاته التي يحلف بها عرفا كعزة الله وجلاله وكبريائه؛  لأن الحلف بها متعارف ۔۔۔(ولو قال وغضب الله وسخطه، لم يكن حالفا) ۔۔۔لأن الحلف بها غير متعارف(الھدایة، كتاب الأيمان، باب ما يكون يمينا و ما لا يكون يمينا، ج:2، ص:477)


فتویٰ نمبر : 6197/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں