بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

عدت کے ایام میں کمی کرنا


سوال

کسی عورت کا شوہر انتقال کرجائےتو عورت کی عدت کتنے مہینوں تک ہوتی ہے؟ کیا عورت  اپنی مرضی سے عدت کے ایام کم کر سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے توشریعت میں اس کے لیے عدت کی مقدار مقرر  ہے۔ لہذا  شوہر کی وفات کے وقت   جو عورت حاملہ ہو اس کی عدت وضع حمل ہےاور جوحاملہ نہ ہو تواس پر چار ماہ دس دن  عدت گزارنا ضروری ہےاور عدت کے ایام میں کمی کرنے کا اختیارنہیں۔

صورت مسئولہ میں شوہر کےانتقال کے وقت اگرعورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی جبکہ حاملہ نہ ہونے کی صورت میں اس پر چار ماہ دس دن عدت  گزارنا لازم  ہوگا، عدت کے ایام میں کمی کرنے کا کوئی اختیارنہیں ۔

 

قال اللہ تعالی﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾(البقرۃ:234)

وقال:﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾(الطلاق:4)

"وأما الذي يجب أصلا ‌بنفسه ‌فهو ‌عدة ‌الوفاة، وسبب وجوبها الوفاة قال الله تعالى {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا}، وأنها تجب لإظهار الحزن بفوت نعمة النكاح إذ النكاح كان نعمة عظيمة في حقها فإن الزوج كان سبب صيانتها، وعفافها، وإيفائها بالنفقة، والكسوة، والمسكن فوجب عليها العدة إظهارا للحزن بفوت النعمة، وتعريفا لقدرها، وشرط وجوبها النكاح الصحيح فقط فتجب هذه العدة على المتوفى عنها زوجها۔۔۔ وأما عدة الحبل فهي مدة الحمل، وسبب وجوبها الفرقة أو الوفاة "۔ (بدائع الصنائع، كتاب الطلاق، فصل فى عدة الأشهر، ج:4، ص:418)


فتویٰ نمبر : 7133/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں