بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

عیسائی کی دعوت قبول کرنا


سوال

اگر عیسائی کسی مسلمان کو دعوت دےتو کیا اس  کی دعوت قبول کرسکتے ہیں؟ اگر وہ گھر پر کھانا بھیج دیں، تو اس کا کھانا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  اسلام غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہمدردی اور رواداری کا درس دیتا ہے،  اس بنا پر اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کا دعوت کرے، یا اس کو ہدیہ دے دے تو اس کو قبول کرنے میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں، تاہم اگر ان کی دعوت یا گھر بھیجے ہوئے کھانے میں گوشت شامل ہو تو اس سے احتیاط لازم ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر کوئی عیسائی کسی مسلمان کو کھانے کی دعوت دے یا کوئی چیز ہدیہ کرے تو اس کو اس شرط پر قبول کرنا جائز ہے کہ اس میں دین کی بے توقیری یا مستقبل میں اس کی وجہ سے کسی قسم کےدینی نقصان کا خطرہ نہ ہو، نیز جو چیز ہدیہ میں دی جارہی ہو وہ بذات خود جائز اور حلال ہو۔

 

  "ولا بأس بالذهاب إلى ضيافة أهل الذمة هكذا ذكر محمد رحمه الله تعالى...ولا بأس بأن يصل الرجل المسلم والمشرك قريبا كان أو بعيدا محاربا كان أو ذميا"۔(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم، ج:5، ص:401)


فتویٰ نمبر : 6196/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں