بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
میت کے اولیاء میں نماز جنازہ کی اجازت میں حق ولایت کا حکم
سوال
اگرکسی شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کے چار یا پانچ بیٹے ہوں تو نماز جنازہ کی اجازت دینے میں حق ولایت سب سے زیادہ کون سے بیٹے کو حاصل ہے یعنی اگر چھوٹے بیٹوں کی اجازت سے نماز جنازہ پڑھائی گئی تو کیا بڑے بیٹے کو لوٹانے کا حق ہوگا یا اس کے برعکس؟ اسی طرح میت کا بیٹا نہ ہو بلکہ صرف متعدد بھائی ہوں تو ان میں اجازت دینے کا سب سے زیادہ حقدار کون سا بھائی ہے؟
جواب
واضح رہے کہ میت کی نماز جنازہ کی اجازت کا حق ولی کو ہوتا ہے،اگر میت کے اولیاء ایک سے زیادہ ہوں اور سب درجہ قرابت میں برابر ہوں تو ان سب کو حق ولایت مساوی درجے کا حاصل ہوگا، لہذا اگر کسی بھی ولی کی اجازت سے نماز جنازہ پڑھا دی گئی تو دوسرے اولیاء میں سے کسی کو نماز جنازہ کے اعادہ کا حق حاصل نہ ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر اولیاء بیٹے یا بھائی ہوں تو اگران میں سے کسی ایک ولی کی اجازت سے نماز جنازہ پڑھائی جائے چاہے عمر کے لحاظ سے چھوٹا ہو یا بڑا۔ تو دوسرے اولیاء کو نماز جنازہ دوبارہ پڑھانے کا حق حاصل نہ ہوگا۔
والأولياء على ترتيب العصبات الأقرب فالأقرب إلا الأب فإنه يقدم على الابن، كذا في خزانة المفتين قيل: هذا قول محمد - رحمه الله تعالى - وعندهما الابن أولى، والصحيح أنه قول الكل، كذا في التبيين۔ ( الفتاوى الهندية، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة على الميت،ج:1، ص:163)
ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء أخر بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا، كذا في الجوهرة النيرة۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة على الميت،ج:1، ص:164)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں