بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پلاٹ فروخت کرتے وقت گھر بنانے کی اور اپنے علاؤہ دوسرے پر فروخت نہ کرنے کی شرط لگانا


سوال

ایک شخص نے ایک ٹاؤن بنایا ہے اور اس میں ایک مرلہ کی قیمت تین لاکھ روپےرکھی ہے اور بیع کرتے وقت خریدار کے ساتھ یہ معاہدہ کیا جاتا ہےکہ تم اس پر گھر بناؤ گےاور  گھر نہ بنانے کی صورت میں  اس کو ہمارے علاؤہ کسی دوسرے کو نہیں بیچ سکوگےالبتہ اگروہ اسے بیچنا چاہے تو اگر ایک سال کے بعد بیچے گا تو ٹاؤن والاتین لاکھ کے ساتھ 30ہزار روپے اضافی  دے گا اور اگر دو سال کے بعد بیچے گا تو تین لاکھ کے ساتھ 60ہزار روپے اضافی دے گا، اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسا معاملہ شرعا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ خرید وفروخت کا معاملہ کرتے وقت ایسی شرط لگانا جو عقد کے مقتضی کے خلاف ہو، اور اس میں بیچنےوالے یاخریدنے والے کا کوئی فائدہ ہو،تو ایسی شرط خریدوفروخت کےمعاملہ کو فاسد کر دیتی ہے،چنانچہ اگربائع مشتری سےصلب عقد میں یہ شرط لگائے کہ آئندہ فروخت کرنے کی صورت میں صرف مجھ پر فروخت کروگےتویہ بیع فاسد ہوگی، اور اگر صلب عقد میں یہ شرط نہ ہو بلکہ خریدوفروخت کے بعد آپس میں یہ وعدہ کریں کہ فروخت کرنے کی صورت میں مشتری بائع پر فروخت کرےگا تو شرعا بیع جائزہوگی اور مشتری وعدہ کی پاسداری کرےگا۔       

لہذا صورت مسئولہ میں  جو صورت ذکر کی گئی ہے کہ "خریدنے والااس پر گھر بنائے گا اور گھر نہ بنانے کی صورت میں  اس کو ہمارے علاوہ کسی دوسرے کو فروخت نہیں کرے گا "یہ شرط فاسد ہے جس کی وجہ سے یہ معاملہ جائز نہیں تاہم اگر عقد میں شرط نہ لگائیں اور عقد کے بعد آپس میں یہ وعدہ کریں کہ اگر تم بیچوگے تو صرف مجھے بیچوگے تو پھر بیع جائز ہوگی۔

 

وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده۔ (الهداية، کتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:3 ، ص:48)

ولو باع عبدا أو جارية بشرط أن لا يبيعه وأن لا يهبه ولا يخرجه عن ملكه فالبيع فاسد كذا في البدائع۔ ( الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب العاشر في الشروط التي تفسد البيع والتي لا تفسده، ج:4، ص:134)

قلت: وفي جامع الفصولين أيضا: لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العقد جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لازمة فيجعل لازما لحاجة الناس۔(ردالمحتار على الدرالمختار، مطلب في بيع بشرط الفاسد، ج:5، ص:84)

إن ذكرا شرط الفسخ في البيع فسد البيع، وإن لم يذكرا ذلك في البيع وتلفظا بلفظ البيع بشرط الوفاء أو تلفظا بالبيع الجائز وعندهما هذا البيع عبارة عن بيع غير لازم فكذلك، وإن ذكرا البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزم الوفاء بالوعد كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب العشرون في البياعات المكروهة، ج:3، ص:196)


فتویٰ نمبر : 3748/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں