بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تکبیر اولیٰ کی وجہ سے فجر کی سنتیں چھوڑنا


سوال

اگر کوئی آدمی تکبیر اولیٰ کا پابند ہو اور وہ فجر کی نماز میں اس وقت حاضر ہوجائےکہ جماعت کھڑی ہورہی ہو، تو اگروہ سنتیں چھوڑ کر تکبیر اولیٰ کے ساتھ جماعت میں شریک ہوجائے اور سنت نہ پڑھے، تواس کے لیے یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

احادیث میں فجر کی سنتوں کے بارے میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے، احادیث کو سامنے رکھ کر حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص فجر کی نماز کے لیے مسجد آئے اور جماعت شروع ہوگئی ہو تو اگر اسے امید ہو کہ وہ سنتیں پڑھ کر امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں شامل ہوجائے گا تو پھر پہلے سنتیں پڑھے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی آدمی تکبیر اولیٰ کا پابند ہو اور وہ فجر کی نماز میں اس وقت حاضر ہو جائےکہ نماز کھڑی ہورہی ہو تو اس کے لیے تکبیر اولیٰ پانے کے لیے سنتیں چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔

 

عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: « ‌ركعتا ‌الفجر ‌خير من الدنيا وما فيها ». )صحيح مسلم، ‌‌باب استحباب ركعتي سنة الفجر والحث عليهما وتخفيفهما، ج:2، ص:160، رقم الحديث:725)

(وإذا خاف فوت) ركعتي (الفجر لاشتغاله بسنتها تركها) لكون الجماعة أكمل (وإلا) بأن رجا إدراك ركعة في ظاهر المذهب. و قيل التشهد واعتمده المصنف والشرنبلالي تبعا للبحر، لكن ضعفه في النهر (لا) يتركها بل يصليها عند باب المسجد إن وجد مكانا وإلا تركها لأن ترك المكروه مقدم على فعل السنة .( الدر المختار، كتاب الصلاة، ‌‌باب: إدراك الفريضة، ص:96)


فتویٰ نمبر : 10407/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں