بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسافتِ شرعی سے کم سفر کے دوران درمیانی سفرسے شرعی سفر کی مسافت کے برابر ہونے کی صورت میں قصر کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے گھر سے میری جائے ملازمت (چکوٹھی )تریسٹھ کلومیٹر ہے ،درمیان( گڑھی دوپٹہ)سے شہر (مظفرآباد)کی طرف تئیس کلومیٹر جاتا ہوں اور واپس گڑھی دوپٹہ سے ہو کر چکوٹھی جاتا ہوں ،اب چکوٹھی تک میرا سفر 109 کلومیٹر ہو جاتا ہے اس صورت میں نماز قصر یا پوری پڑھنا ہوگی تنقیح گڑھی دوپٹہ سے بائیں طرف مظفرآباد تئیس کلومیٹر ہے اور دائیں طرف چکوٹھی چونتیس کلومیٹر ہے جبکہ گڑھی دوپٹہ سے مظفرآباد ایک ہی راستہ سے جانا،آنا ہوتاہے،دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ ایک ہی راستے پر مکرر سفر کرنے سے وہ راستہ یک طرفہ شمار ہو گا یا دونوں طرف سے شمار ہو گا اور اسی طرح ایک جگہ سے بائیں طرف جاکر واپس اسی جگہ سے آگے سفر شروع کرنے کی صورت میں بائیں طرف والے راستے کو شمار کیا جائے گا یا نہیں ،تمام صورتوں کا تفصیلی جواب درکار ہے۔

جواب

واضح رہے کہ موجودہ دور میں سفر شرعی کے لیے علماء کرام نے 48 میل یا 78  کلو میٹر کا اندازہ مقرر کیا ہے، لہذا اس سے کم مسافت کے ارادے سے سفر کے لیے نکلنے والا شخص شرعا مسافر کے حکم میں شمار نہیں ہوگا،تو پوری نماز پڑھے گا۔

صورت ِمسئولہ کے مطابق اگر سائل کے گھر سے اس کی جائے ملازمت (چکوٹھی )تک تریسٹھ کلومیٹر ہے،لیکن وہ دورانِ سفر "گڑھی دوپٹہ "سے   بائیں طرف شہر"مظفر آباد" جاتاہوجو کہ تئیس کلو میٹر ہے،اور پھروہاں سے واپس "گڑھی دوپٹہ "سے "چکوٹھی "تک سفر کرتا ہےجو کہ مجموعی طور پر109 کلو میٹرہوجاتا ہےتو اگر وہ مجموعی مسافت کےارادے سے نکلا تھا  تو اس صورت میں وہ شرعامسافر شمار ہوگا،اور اس پر قصر نماز واجب ہوگی اور اگر گھر سےصرف "چکوٹھی "کا ارادہ کرتے ہوئے نکلا ہے تو اس صورت میں وہ شرعا مسافر شمار نہ ہوگا،اگر چہ درمیان میں"گڑھی دوپٹہ "سے   بائیں طرف شہر"مظفر آباد" تک سفر کرے، لہذا پوری نماز پڑھے گا۔

 

(‌من ‌خرج ‌من ‌عمارة ‌موضع ‌إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر...، ( قاصدا ) ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر، ( مسيرة ثلاثة أيام ولياليها ) من أقصر أيام السنة...، ( بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة ) حتى لو أسرع فوصل في يومين قصر، ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الأول لا الثاني،( صلى الفرض الرباعي ركعتين ) وجوبا لقول ابن عباس: إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعا والمسافر ركعتين.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، ص:105 )

‌وتعتبر ‌المدة ‌من ‌أي ‌طريق ‌أخذ ‌فيه، كذا في البحر الرائق فإذا قصد بلدة وإلى مقصده طريقان أحدهما مسيرة ثلاثة أيام ولياليها والآخر دونها فسلك الطريق الأبعد كان مسافرا عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان، وإن سلك الأقصر يتم.( الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، باب في صلاة المسافر، ج:1، ص:138 )


فتویٰ نمبر : 10587/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں