بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم سے کسی کے لیے کپڑے خرید نا


سوال

میرے پڑوس میں قریب ایک لڑکی   کی شادی ہو رہی ہے اور میں چاہتا ہو کہ اس کو  کپڑے خرید کر دےدوں اب اگر میں زکوۃ کی رقم سے کپڑے خرید کراس لڑکی کو دے دوں تو کیا میری زکوۃ ادا ہو گی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کی  ادائیگی کے لیے تملیک ایک بنیادی شرط ہے لہذا اگر زکوۃ کی رقم یا اس سے کوئی چیزخرید کر کسی مستحق زکوۃ کو  بطور تملیک دے دی جائے تواس سےزکوۃ ادا ہو جائے گی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق سائل اگرزکوۃ کی رقم سے کپڑے خرید کر مستحق زکوۃ لڑکی  کو بطور تملیک دے تواس سےاس کی زکوۃ اداہوجائیگی۔

أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة، ‌‌الباب الأول في تفسيرالزكاة وصفتها وشرائطه،ج:1،ص:170)


فتویٰ نمبر : 10422/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں