بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

دیہاتی کا جمعہ کے دن شہر میں ٹھہرنے سے نماز جمعہ کا وجوب


سوال

اگر ایک بندہ دیہات میں ہو اور اس کےساتھ مسجد نزدیک نہ ہو، مثلاً مسجد شہر کی بازار میں  ہواور وہ بازار کوئی چیز خریدنے  کے لیے جا  ئے اور نماز جمعہ نہ پڑھے اور یہ کہے  کہ میں دیہاتی ہوں مجھ پر نماز جمعہ نہیں ہے  تو کیا ایسا کرنا ٹھیک یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی دیہاتی کسی شہر میں داخل ہو جائے اور جمعہ کے دن وہاں ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو اس پر بھیر  نماز جمعہ واجب ہے اور اگر جمعہ کے دن  ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو تو نماز جمعہ اس پر واجب نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں اگر دیہاتی  کا جمعہ کی نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے شہر سے نکل جانے کا ارادہ ہو تو اس پر جمعہ واجب نہیں  لیکن اگر   نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد شہر سے جانے کا ارادہ ہو تواس میں فقہائے کرام  کی  رائے مختلف ہے،بعض حضرات نے وجوب  جمعہ اور بعض  نے  عدم وجوب کو ترجیح دی ہے البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ وقت داخل ہونے کے بعد جمعہ پڑھ کر ہی نکلے ۔

 

القروي إذا دخل المصر ونوى أن يمكث يوم الجمعة لزمته الجمعة؛ لأنه صار كواحد من أهل المصر في حق هذا اليوم وإن نوى أن يخرج في يومه ذلك قبل دخول الوقت أو بعد الدخول لا جمعة عليه، ولو صلى مع ذلك كان مأجورًا، كذا في فتاوى قاضي خان والتجنيس والمحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج:1، ص:145)

(القروي إذا دخل المصر يومها إن نوى المكث ثمة ذلك اليوم لزمته) الجمعة (وإن نوى الخروج من ذلك اليوم قبل وقتها أو بعده لا تلزمه) لكن في النهر إن نوى الخروج بعده لزمته وإلا لا. وفي شرح المنية: إن نوى المكث إلى وقتها لزمته، وقيل لا (كما) لا تلزم (لو قدم مسافر يومها) على عزم أن لا يخرج يومها. (قوله القروي) بفتح القاف نسبة إلى القرية وأراد به المقيم أما المسافر فذكره بعد (قوله لا تلزمه) لأنه في الأول صار كواحد من أهل المصر في ذلك اليوم وفي هذا لم يصر درر عن الخانية (قوله لكن في النهر إلخ) مثله في الفيض، وحكى بعده ما في المتن بقيل (قوله لزمته) أي إذا مكث إلى دخول وقتها وكذا يقال فيما ذكره بعده (قوله: وفي شرح المنية إلخ) ونصه: وإن دخل القروي المصر يوم الجمعة، فإن نوى المكث إلى وقتها لزمته، وإن نوى الخروج قبل دخوله لا تلزمه، وإن نواه بعد دخول وقتها تلزمه وقال الفقيه أبو الليث: لا تلزمه، وهو مختار قاضي خان.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:162،161)


فتویٰ نمبر : 10440/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں