بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/08/2026

دارالافتاء

 

چلتی گاڑی میں نماز پڑھنا


سوال

میرا گھر دفتر سے 73 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ واپسی پر بعض اوقات گاڑی والا نماز عصر کے لیے نہیں رکھتا تو گھر پہنچنے تک نماز قضا ہو جاتی ہے۔ کیا میں چلتی گاڑی کی سیٹ پر نماز ادا کر سکتا ہوں یا نہیں؟ نیز یہ نماز سفرانہ ہو گی یا نہیں؟

جواب

چلتی گاڑی  اگر  ایسی ہوکہ اس  میں قیام رکوع ،سجدہ  اور قبلہ رخ ہونےسمیت تمام شرائط کے ساتھ نماز ادا کی جاسکے جیسے ٹرین، تو اس میں فرض ونفل ہر طرح کی نماز جائز ہے ۔نیز ایسی گاڑی میں اگر  قیام كرنا مشکل ہو  تو بیٹھ کر رکوع،سجدہ اور قعدہ کے ساتھ نماز پڑھنے کی بھی  گنجائش پائی جاتی ہے تاہم اگر چلتی گاڑی ا یسی ہو جس میں قبلہ رو ہونا، قیام، رکوع وسجود وغیرہ کی رعایت نہ  رکھی جاسکے جیسے بس یا موٹر کار،  تو ایسی گاڑی میں فرض  نماز جائز نہیں۔ نیز کلو  میٹر کے حساب سے سفر  شرعی  کی مسافت (78) کلو میٹرہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق چلتی گاڑی کی سیٹ پر نماز ادا کر نا جائز نہیں۔ نیز اگر گھر سے دفتر تک کا فاصلہ 78 کلومیٹرسے کم ہو تو یہ سفر شرعی شمار نہ ہو گی، لہذا نماز مکمل ادا کرنی ہو گی۔

 

(ومن صلى في السفينة قاعدا من غير علة أجزأه عند أبي حنيفة رحمه الله والقيام أفضل. وقالا: لا يجزئه إلا من عذر) ؛ لأن القيام مقدور عليه فلا يترك إلا لعلة.( فتح القدير على الهداية،باب صلوة المريض ،ج:2،ص:8)

وفي الخلاصة وفتاوى قاضي خان وغيرهما ‌الأسير ‌في ‌يد ‌العدو ‌إذا ‌منعه ‌الكافر ‌عن ‌الوضوء ‌والصلاة يتيمم ويصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج ...فعلم منه أن العذر إن كان من قبل الله تعالى لا تجب الإعادة وإن كان من قبل العبد وجبت الإعادة.(البحر الرائق،باب التيمم،ج:1،ص:149)

أن ‌الفريضة ‌لا ‌تجوز ‌على ‌الدابة ‌فلا ‌يصلي ‌المسافر ‌المكتوبة ‌على ‌الدابة ‌إلا ‌من ‌عذر كخوف اللص والسبع وطين المكان وكون الدابة جموحا وكون المسافر شيخا كبيرا لا يجد من يركبه".(العنايه شرح الهدايه، كتاب الصلاة،فصل فى القراءة،ج:1،ص:463)

وأما الصلوة في السيارات البرية من القطارات وغيرها فعند الوقوف حكمها كحكم الصلوة على الأرض وعند السير حكمها كحكم الصلوة في السفينة السائرة فمن صلى فيها قاعدا بركوع وسجود أجزءت ،ومن صلى فيها بالإيماء للزحمة وضيق المحل فالظاهر من النظائر أن يعيد الصلوة.(منهاج السنن شرح جامع السنن ،باب الصلوة على الدابة،ج:2،ص:236)


فتویٰ نمبر : 10444/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں