بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بينك والوں سے ايڈوانس پيسے لے كر نوکری چھوڑنا


سوال

ایک شخص سودی بینک میں نوکر ہے اور اس کے ریٹائر ہونے میں  تین چار سال باقی ہیں اب بینک والے اس کو کہتے ہیں کہ ہم آپ کو ایک کروڑ روپے دیتے ہیں  آپ ا پنی نوکری سے دستبردار ہو جائیں تو کیا اس طرح کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 کسی شخص کا کسی ملازمت پر تقرری ایک حق مجرد ہے جو کہ مال نہیں، اس لیے اس کا بیچنا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ شخص کو  بینک والوں کی آفر کے مطابق نوکری چھوڑنے کے عوض ایک کروڑ روپے لینا جائز نہیں ۔

 

الحقوق المجردة ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض عنها ... وعلى هذا ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض عن الوظائف في الأوقاف. (الأشباه والنظائر، كتاب البيوع، ص: 178)

‌وأفتى ‌في ‌الخيرية ‌أيضا ‌بأنه ‌لو ‌فرغ ‌عن ‌الوظيفة ‌بمال ‌فللمفروغ ‌له ‌الرجوع بالمال لأنه اعتياض عن حق مجرد وهو لا يجوز صرحوا به قاطبة قال ومن أفتى بخلافه فقد أفتى بخلاف المذهب لبنائه على اعتبار العرف الخاص وهو خلاف المذهب والمسألة شهيرة وقد وقع فيها للمتأخرين رسائل واتباع الجادة أولى. (رد المحتار، كتاب الوقف، مطلب للمفروغ له الرجوع بمال الفراغ، ج: 4، ص: 383)


فتویٰ نمبر : 3743/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں