بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

شادی بیاہ میں موسیقی کا حکم


سوال

1۔میرے بیٹے کی کچھ دنوں بعد شادی ہے،اس میں گھر والوں کی خواہش ہے کہ موسیقی ہوجائے۔لیکن مجھے معلوم ہے کہ اسلام میں موسیقی حرام ہے۔شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں؟

2۔ہم بہن بھائیوں یا دوسرے عزیز رشتہ داروں  کے گھر جاتے ہیں،تو وہاں موسیقی کا پروگرام ہوتا ہے۔شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کیوں کہ رشتہ داری توڑنا  بھی گناہ ہے؟

جواب

شادی کے موقع پر شرعی حدود کے اندررہتے ہوئے اس کااعلان کرنا اور اس پر خوشی کا اظہار کرنا جائزامرہے، البتہ گانے ،ڈھول اورموسیقی وغیرہ سے لطف اندوزہوناحدیث کی رو سے حرام ہے، لہذا شادی کے موقع پرموسیقی کی اجازت نہیں۔

نیز مسلمان کی دعوت قبول کرنی چاہیےلیکن اس شرط پر کہ وہ دعوت غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہو  چنانچہ جو دعوت یا محفل غیر شرعی امور پر مشتمل ہو  اور پہلے سے اس کا علم ہو تو اس میں شرکت  کرنا  جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق جو  تقریبات ناچ ،گانے اور میوزک جیسے خرافات پر مشتمل ہوں اور پہلے سے  یقینی طور پر اس بات کاعلم ہوتو ان میں  شرکت جائز نہیں،تاہم اگر پہلے سے علم نہ ہواور وہاں پر جانے کے بعد معلوم ہو جائے کہ  موسیقی  یا دیگر محرمات کا ارتکاب ہو رہا ہے تو عام لوگوں  کے لیےوہاں رکنے اور کھانا  کھانے کی گنجائش ہے لیکن اہل علم کو وہ مجلس چھوڑ دینا چاہیے۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ﴾ (لقمان :6)

(دعي إلى وليمة وثمة لعب أو غناء قعد وأكل) لو المنكر في المنزل، فلو على المائدة لا ينبغي أن يقعد بل يخرج معرضا لقوله تعالى:فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين۔ (فإن قدر على المنع فعل وإلا) يقدر (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان) مقتدی (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد) لان فيه شين الدين، والمحكي عن الإمام كان قبل أن يصير مقتدى به (وإن علم أولًا) باللعب (لا يحضر أصلا) سواء كان ممن يقتدى به أو لا، لان حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله. (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، ج: 9، ص: 501)


فتویٰ نمبر : 6189/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں