بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

قضاء نماز لوٹاتے وقت جماعت کھڑی ہوجانا


سوال

نماز کن وجوہ پر توڑ سکتے ہیں۔ میں نے حرم مکہ میں ایک قضا نماز ادا کرنا شروع کی، ابھی رکوع بھی نہیں کیا تھا کہ جماعت کھڑی ہو گئی، میں نے کھڑے کھڑے اپنی نماز توڑ دی اور جماعت میں شامل ہو گیا، بعد میں قضا نماز پوری ادا کی۔ کیا ایسا کر نادرست تھا؟

جواب

نماز ایک عظیم عبادت ہے ،اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہمہ تن متوجہ  ہونا چاہئے،اور کسی قسم کی بے ادبی نہیں کرنی چاہیے،اگر کوئی شدید عذر نہ ہو تو نماز کو نہیں توڑنا  چاہئے،البتہ اگر  سامنے کوئی موذی چیز ہو یا دشمن کا خوف ہو یا کوئی اورایسی حاجت پیش آئے کہ جس کے بغیر نہ رہا جاسکتا ہو تو اس کے لیے نماز توڑ سکتے ہیں۔نیزاگر کوئی قضاء نماز لوٹا رہا ہو اور جماعت کھڑی ہوجائے تواگر صاحب ترتیب ہوتو اپنی نماز پوری کرےگااور اگر صاحب ترتیب نہ ہوتو پھراگر پہلی رکعت کی ابتداء ہو تو سلام پھیر کر فرض میں شریک ہونا چاہیئے ،اور اگرایک رکعت پڑھی ہو تو دوسری بھی پڑھ کر سلام پھیرے،اور اگردو رکعت پڑھی ہوں اور  تیسری شروع  کی ہو ،تو اگر شروع میں ہو تو سلام پھیرےگا،اور اگر تیسری  رکعت کا سجدہ بھی کیا ہو تو چار پوری کرے گا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق سائل اگر صاحب ترتیب نہ تھا ،تو ا س کاسلام پھیر کر جماعت میں شریک ہونا  درست تھا،اور اگر صاحب ترتیب تھا تو اس کو نماز پوری  کرنی چاہیئے تھی ،لیکن چونکہ اس نے اس طرح نہیں  کیا  تو اس کی ترتیب ساقط ہو کر نماز درست ہو گئی۔

 

(‌إذا ‌خرج ‌الامام) ‌من ‌الحجرة إن كان وإلا فقيامه للصعود.شرح المجمع (فلا صلاةولا كلام إلى تمامها) وإن كان فيها ذكر الظلمة في الاصح (خلا قضاء فائتة لم يسقط الترتيب بينها وبين الوقتية) فإنها لا تكره.(الدر المختار شرح تنوير الابصار،کتاب الصلاۃ،باب الجمعة ،ص:110)

قوله والقضاء) يعني إذا شرع في صلاة قضاء ثم شرع الإمام في الأداء فإنه لا يقطع، وإنما حملناه على هذا لأنه إذا شرع في قضاء فرض فأقيمت الجماعة في ذلك الفرض بعينه يقطع كما ذكره في البحر بحثا وجزم به في إمداد الفتاح.۔۔۔ أقول: وجزم به المقدسي أيضا؛ وأما ما نقله عن البحر فلم أره فيه. والذي رأيته فيه معزيا للخلاصة: لو شرع في قضاء الفوائت ثم أقيمت لا يقطع كالنفل والمنذورة كالفائتة. اهـ.

لو خاف فوت جماعة الحاضرة قبل قضاء الفائتة، فإن كان صاحب ترتيب قضى، وإن لم يكن فهل يقضي ليكون الأداء على حسب ما وجب، وليخرج من خلاف مالك فإن الترتيب لا يسقط عنده بالأعذار المذكورة عندنا، أم يقتدي لإحراز فضيلة الجماعة مع جواز تأخير القضاء وإمكان تلافيه. قال الخير الرملي: لم أره، ثم نقل عن الشافعية اختلاف الترجيح فيه. واستظهر الثاني. قلت: ووجهه ظاهر لأن الجماعة واجبة عندنا أو في حكم الواجب، ولذا يترك لأجلها سنة الفجر التي قيل عندنا بوجوبها، ومراعاة خلاف الإمام مالك مستحبة، فلا ينبغي تفويت الواجب لأجل المستحب. (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلاة ،ج:2،ص50 )

"ويباح قطعها لنحو قتل حية، وند دابة، وفور قدر، وضياع ما قيمته درهم له أو لغيره. ويستحب لمدافعة الأخبثين، وللخروج من الخلاف إن لم يخف فوت وقت أو جماعة ويجب لإغاثة ملهوف وغريق وحريق، لا لنداء أحد أبويه بلا استغاثة إلا في النفل، فإن علم أنه يصلي لا بأس أن لا يجيبه، وإن لم يعلم أجابه.

(قوله: لا لنداء أحد أبويه إلخ) المراد بهما الأصول وإن علوا، وظاهر سياقه أنه نفي لوجوب الإجابة فيصدق مع بقاء الندب والجواز ط. قلت: لكن ظاهر الفتح أنه نفي للجواز. وبه صرح في الإمداد بقوله أي لا قطعها بنداء أحد أبويه من غير استغاثة وطلب إعانة لأن قطعها لايجوز إلا لضرورة.(رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:654)


فتویٰ نمبر : 10428/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں