بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نماز وتر کی تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ رہ جانا


سوال

 میری شادی کے تقریبا 3 سال ہوگئے میری بیوی نماز وتر کی تیسری رکعت میں فاتحہ نہیں پڑھتی تھی بلکہ جیسے ہی دوسری رکعت کے قاعدہ سے اٹھتی تو الحمد پڑھے بغیر سورت پڑھتی اور سورت کے بعد دعاے قنوت البتہ باقی سب رکعتوں میں فاتحہ پڑھتی تھی اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا وہ نمازیں ہوگئ ہیں یا ان کی قضا کرے گی؟

جواب

اگر کسی شخص سے نماز میں کوئی واجب رہ جائے (مثلاً: سورہ فاتحہ رہ جائے) اور سجدہ سہو بھی نہ کرے تو وقت کے اندراس نماز کا اعادہ واجب ہو تا ہے اور  وقت کے گزر جانے کے بعد وجوبِ اعادہ ساقط ہو جاتا ہے، البتہ اعادہ کرنا مستحب ہوتا ہے،تاہم توبہ و استغفار  کرنالازم  ہو گا۔

صورت مسئولہ میں  وتر کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کی وجہ سے ان نمازوں کا وقت کے اندر اعادہ لازم تھا وقت کے گزرنے کے بعد اب اعادہ لازم نہیں ہے، البتہ اعادہ کر لینا مستحب ہے۔

 

"وإعادتها بتركه عمداً" أي ما دام الوقت باقياً وكذا في السهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها حتى خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم، ويكون فاسقاً آثماً، وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، فصل في بيان واجب الصلاة، ص:247)

‌كل ‌صلاة ‌أديت ‌مع ‌كراهة التحريم تعاد: أي وجوبا في الوقت، وأما بعده فندبا (قوله أي وجوبا في الوقت إلخ) . . . قال في البحر: فعلى القولين لا وجوب بعد الوقت. فالحاصل أن من ترك واجبا من واجباتها أو ارتكب مكروها تحريميا لزمه وجوبا أن يعيد في الوقت، فإن خرج أثم ولا يجب جبر النقصان بعده. فلو فعل فهو أفضل. اهـ.. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلوة، ‌‌باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:64)


فتویٰ نمبر : 10447/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں