بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے سپیکر پر فوتگی کا اعلان اور اس سے پہلے تلاوت کرنا


سوال

ہمارے علاقے میں جب فوتگی کا اعلان ہوتا ہے، تو اس سے پہلے مسجد کے سپیکر پر تلاوت کرتے ہیں اور پھر اعلان کیا جاتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ مسجد کے سپیکر پر فوتگی کا اعلان اور اس سے پہلے تلاوت کرنا کیسا ہے؟

جواب

قرآنِ کریم کی تلاوت کی اہمیت و عظمت کےمطابق اس کےآداب کی رعایت رکھنا نہایت ضروری ہےاس لیےاگر قرآنِ پاک پڑھنےسے اللہ کا ذکر اور تلاوت یا لوگوں کی نصیحت مقصود نہ ہو، بلکہ محض اعلانات کے لیے یا لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے اسے پڑھا جائے تو یہ قرآنِ کریم کی بے ادبی کے مترادف ہوگا، لہٰذا فوتگی کے اعلان سے پہلے لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے قرآنِ کریم کی کسی سورت کی تلاوت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔البتہ لوگوں کو اعلان کی طرف متوجہ کرنے کی غرض سے تلاوتِ قرآنِ پاک کی بجائےایسےالفاظ یا جملے استعمال کرنا درست ہے جن سے لوگوں کی توجہ حاصل ہوجائے۔

کسی کی موت پر اس کے جنازے کا اعلان کرنا درست ہے، نیز بوقت ضرورت مسجد میں بھی جنازہ کا اعلان کرنا درست ہے، اور اس کے لیے اگرمسجد کا سپیکر استعمال کیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

                 

"ولا بأس بإعلام الناس بموته من أقربائه وأصدقائه وجيرانه ليؤدوا حقه بالصلاة عليه، والدعاء والتشييع، وقد روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - «أنه قال في المسكينة التي كانت في ناحية المدينة إذا ماتت فآذنوني» ؛ ولأن في الإعلام تحريضا على الطاعة و حثا على الاستعداد لها فيكون من باب الإعانة على البر والتقوى، والتسبب إلى الخير والدلالة عليه، وقد قال الله تعالى {وتعاونوا على البر والتقوى} [المائدة: ٢] و قال النبي صلى الله عليه وسلم: «الدال على الخير كفاعله» إلا أنه يكره النداء في الأسواق والمحال؛ لأن ذلك يشبه عزاء أهل الجاهلية."(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل صلاة الجنازة، ج:1، ص:299)

"وقد كرهوا والله أعلم ونحوه … لإعلام ختم الدرس حين يقرر،(قوله لإعلام ختم الدرس).....فإنه استعمله آلة للإعلام ونحوه إذا قال الداخل: يا الله مثلا ليعلم الجلاس بمجيئه ليهيئوا له محلا، ويوقروه وإذا قال الحارس: لا إله إلا الله ونحوه ليعلم باستيقاظه."(رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة،‌‌فصل في البيع،ج:6،ص:431)

"وعن هذا يمنع ‌إذا ‌قدم ‌واحد من العظماء إلى مجلس فسبح أو صلى على النبي صلى الله عليه وآله وأصحابه إعلاما بقدومه حتى ينفرج له الناس أو يقوموا له يأثم هكذا في الوجيز للكردري."(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الكراهية،الباب الرابع في الصلاة والتسبيح ورفع الصوت عند قراءة القرآن،ج:5،ص:315)


فتویٰ نمبر : 6187/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں