بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

انتہا ئےسحر اور آذان کے درمیان وقت کا حکم


سوال

ہمارے ہاں جو کلینڈر (اوقاتِ نماز) ہے اس میں انتہائے سحر اور اذانِ فجر کے درمیان سات منٹ کا فاصلہ ہے مثلاً (انتہائے سحر 5:50 پر اور اذانِ فجر 5:57 پر ہے) تو یہ جو درمیان کے سات منٹ ہیں یہ رات میں داخل ہیں یا صبح میں کیونکہ یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ نہ رات ہو اور نہ صبح ۔نوٹ: اگر اس درمیان وقت میں اذانِ فجر دی جائے تو کیا اذان ہو جائے گی اور اس وقت میں پڑھی گئی نمازِ فجر ہو جائے گی اور اگر اسی درمیانی وقت میں رمضان میں کچھ کھایا پیا توروزہ ہو جائے گا؟

جواب

اللہ تعالی نے ہر نماز کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر کیا ہے۔ اس وقت سے پہلے  نماز کی ادائیگی شرعا معتبر نہیں ۔ فجر کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے ،اور طلوع شمس کے ساتھ ختم ہوتا ہے،ہر ہر نماز کے وقت کی تحقیق کرنا چونکہ ایک مشکل کام ہے، اس لیے ماہرین فلکیات نے  آسانی کے لیے ان اوقات کے نقشے تیار کیے ہیں جن سے اوقات کی تعیین میں آسانی ہوتی ہے۔ گویا نقشوں کے ذریعے اوقات کا بتا نا تجربہ کا خلاصہ ہے اور ایسے مسائل میں اہلِ فن کے تجربہ سے استفادہ کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔

انتہاء سحر کے ساتھ ہی اذان فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے ،لیکن چونکہ لوگ صرف نقشے پر اکتفاکرتے ہیں اور ہرایک ضلع کے مشرق و مغرب کے اوقات میں  دو چار منٹ کا فرق ہو سکتا ہے،جب کہ پورے ضلع کے لئے عموماایک ہی نقشہ تیار ہوتا ہے،اس لئے احتیاط کی بنا پر  نقشے میں دو وقت لکھے جاتے ہیں ، کہ پہلے و قت کے مطابق روزہ بند کیا جائے او ر دوسرے وقت کے مطابق صبح کی اذان اور نماز فجر پڑھی جائے ۔

 

‌ اعلم أن الصلوة فرضت لأوقاتها قال الله تعالى: ﴿أقمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ ) ولهذا تكرر وجوبها بتكرار الوقت وتؤدي في مواقيتها . (المبسوط للسرخسي ، كتاب الصلوة ، باب مواقيت الصلوة:ج:1،ص:141)

وقت الفجر من الصبح الصادق وهو البياض المنتشر في الأفق إلى طلوع الشمس ولا عبرة بالكاذب وهو البياض الذي يبدو طولا ثم يعقبه الظلام فبالكاذب لا يدخل وقت الصلاة ولا يحرم الأكل على الصائم. هكذا في الكافي اختلف المشايخ في أن العبرة لأول طلوع الفجر الثاني أو لاستطارته وانتشاره كذا في المحيط والثاني أوسع وإليه مال أكثر العلماء. هكذا في مختار الفتاوى والأحوط في الصوم والعشاء اعتبار الأول وفي الفجر اعتبار الثاني۔كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،باب مواقيت الصلاة،ج:1،ص:51)


فتویٰ نمبر : 10437/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں