بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

سردی کی وجہ سے غسل کیے بغیر نماز پڑھنا


سوال

 پچھلے جمعرات کو جب مجھ پر غسل فرض ہوا تو پھر میرے لیے غسل کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ ہمارا غسل خانہ باہر صحن میں ہے اور وہاں پر غسل کرنا صحت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے ۔اس لیےمجھ سے نماز رہ گئی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسے حالات میں بندہ کیا کرے؟ کیا غسل کے بغیر نماز پڑھ سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ پانی کے ہوتے ہوئے تیمم کرنا صرف اس وقت جائز ہے کہ جب پانی کے استعمال سے بیمار ہو جانے کا یا بیماری میں مزید اضافہ ہونے کا قوی اندیشہ ہو یا کسی عضو کے تلف ہوجانے کا خطرہ ہو ۔ نیز شہر میں ہوتے ہوئے صرف سردی کی وجہ سے اور گرم پانی موجود نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ عموماً شہروں میں دیگر مختلف ذرائع سے پانی گرم کرنا ممکن ہوتا ہے، اگر یہ اشیاء میسر نہ ہوں، تب بھی ٹھنڈے پانی سے غسل کے بعد گرم کپڑوں، چادر وغیرہ کے ذریعہ تسکین حاصل کرنا ممکن ہے، لہٰذا ایسے حالات میں شرعاً تیمم کرنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ غسل فرض ہوجانے کی صورت میں غسل  کرنا ہی ضروری ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسی جگہ ہو، جہاں گرم پانی کا انتظام کسی صورت ممکن نہ ہو اور سردی اتنی شدید ہو کہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کی وجہ سے جان کا خطرہ ہو، یا  شدید بیماری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں تیمم کر کے نماز پڑھنا جائز ہے۔

 

(قوله: أو برد) أي إن خاف الجنب أو المحدث إن اغتسل أو توضأ أن يقتله البرد أو يمرضه تيمم سواء كان خارج المصر أو فيه وعندهما لا يتيمم فيه كذا في الكافي وجوازه للمحدث قول بعض المشايخ والصحيح أنه لا يجوز له التيمم كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة وغيرهما وذكر المصنف في المستصفى أنه بالإجماع على الأصح قال في فتح القدير: وكأنه والله أعلم لعدم اعتبار ذلك الخوف بناء على أنه مجرد وهم إذ لا يتحقق في الوضوء عادة اهـ. ثم اعلم أن جوازه للجنب عند أبي حنيفة مشروط بأن لا يقدر على تسخين الماء ولا على أجرة الحمام في المصر ولا يجد ثوبا يتدفأ فيه، ولا مكانا يأويه كما أفاده في البدائع وشرح الجامع الصغير لقاضي خان، فصار الأصل أنه متى قدر على الاغتسال بوجه من الوجوه لا يباح له التيمم إجماعا وقالا لا يجوز التيمم للبرد في المصر.(البحر الرائق، كتاب الطهارة، باب التيمم، ج:1، ص:148)

قال مشایخنا رحمھم الله تعالى: في دیارنا لا یباح  للمقیم أن یتیمم، لأن في عرف دیارنا أجر الحمام یعطی بعد الخروج، فیمكنه أن یدخل الحمام ويغتسل، فیتعلل بالعسرة عند الخروج.( فتاوی قاضیخان، كتاب الطهارة، باب التيمم، فصل: في ما يجوز له التيمم، ج:1، ص:39)


فتویٰ نمبر : 10446/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں