بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

ذی الحجۃ کا چاند دیکھنےکے بعد ناخن اور بال کاٹنا


سوال

ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعداورقربانی سے پہلے ناخن اوربالوں کوکاٹنے كا كيا حكم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جوشخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہواس کے لیے ذی الحجۃ کے پہلے دس دن میں ناخن اوربال نہ كاٹنا مستحب اورباعث ثواب امر ہے، ليكن اگرکسی نے ذی الحجہ شروع ہوجانے کے بعد قربانی سے پہلے بال یا ناخن کاٹ لیے توكوئی گناہ نہ ہوگا۔ اسی طرح اگرکوئی عذرہویا بال اورناخن بہت بڑھ چکے ہوں توان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ۔اوراگرکسی شخص کے ناخن یا زیرناف بال کے چالیس دن قربانی سے پہلے پورے ہوجائیں تواس کوکاٹ لینا چاہیے کیونکہ مستحب پانے کے لیے مکروہ کا ارتکاب درست نہیں۔

 

عن أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا دخلت العشر وأراد أحدكم أن يضحي فلا يمس من شعره وبشره شيئا‘‘.(صحیح مسلم، کتاب الأضاحي، باب نهي من دخل عليه عشر ذي الحجة وهو مريد التضحية۔۔۔الخ ،ج:6، ص:83)

ومما ورد في صحیح مسلم قال رسول اللهﷺ: إذا دخل العشر وأراد بعضکم أن یضحي فلا یأخذن شعراً ولا یقلمن ظفرا، فهذا محمول علی الندب دون الوجوب بالإجماع، فظهر قوله: ولایجب التأخیر، إلا أن نفي الوجوب لاینافي الإستحباب فیکون مستحبا إلا إن استلزم الزیادة علی وقت إباحة التأخیر ونهایته ما دون الأربعین فلا یباح فوقها. قال في القنية:الأفضل أن یقلم أظفاره ویقص شاربه ویحلق عانته وینظف بدنه بالإغتسال في کل أسبوع، وإلا ففي کل خمسة عشر یوما،ولا عذر في تركه وراء الأربعین ویستحق الوعید، فالأول أفضل، والثاني الاوسط، والأربعون الأبعد.(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الصلاة، باب الکسوف، ج:2، ص:181)


فتویٰ نمبر : 6299/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں