بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کرپٹو کرنسی کی شرعی حیثیت


سوال

 اگر میں کسی ایپ جیسا کہ بائنانس کے زریعے کوئی ورچول کرنسی (کریپٹو کرنسی) خرید لوں ڈالرز کے مد میں اور پھر جب اُس کی مارکیٹ ویلیو بڑھ جائے تو اُس کو بیچ دو  ں تو کیا یہ میرے لئے جائز ہوگا۔ کیونکہ اس میں نفع کیساتھ نقصان کا بھی خطرہ ہوتا ہے اور میرا انویسٹمنٹ بھی شامل ہوتا ہے۔ نوٹ: میں سپاٹ ٹریڈنگ یا فیوچر ٹریڈنگ کی بات نہیں کررہا ہوں۔ اُس کے بارے میں مجھے رہنمائی مل چکی ہے۔

جواب

"کرپٹو" کرنسی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے اور ہماری معلومات کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کی حقیقت چونکہ ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہوئی اور فی الحال یہ ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے جبکہ قانونی سطح پر بھی ابھی تک پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں اسے لیگل کرنسی کی حیثیت حاصل نہیں۔ اسی طرح اہل علم کی آراء بھی اس بارے میں مختلف ہیں۔ لہذا جامعہ عثمانیہ کے دار الافتاء نے اس بارے میں غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ فی الوقت اس بارے میں حتمی رائے قائم نہ کی جائے، البتہ مناسب یہ ہے کہ حقیقت واضح ہونے تک اس میں سرمایہ کاری سے احتراز ہی کیا جائے کیونکہ مومنین کی یہ خوبی ہے کہ وہ شبہات سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں بالخصوص جب کہ وہ زندگی کی کوئی لازمی ضرورت بھی نہ ہو۔

 

عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌الحلال ‌بين ‌والحرام ‌بين، ‌وبينهما ‌مشبهات، ‌لا ‌يعلمها ‌كثير ‌من ‌الناس، ‌فمن ‌اتقى ‌المشبهات ‌استبرأ ‌لدينه ‌وعرضه، ‌ومن ‌وقع ‌في ‌الشبهات كراع يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا إن حمى الله في أرضه محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب». (صحيح البخاري،كتاب الإيمان،باب فضل من استبرأ لدينه،ج:1 ص:13)


فتویٰ نمبر : 3810/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں