بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

خود رو اور بوئے ہوئے سفیدے کے درختوں میں عشر


سوال

اگر کسی کھیت میں خود رو سفیدےکے درخت ہوں، یا اس کھیت کا مالک کھیت کے اطراف میں سفیدے کے درخت لگائے، تو ان میں عشر کا کیا حکم ہے؟ نیز اگرمالک کی طرف سےلگائے گئےدرخت ایک مرتبہ کاٹ لیے جائیں تو دوسری مرتبہ اس میں عشر ہوگا یہ نہیں؟

جواب

کھیتوں کے کناروں پرجو جھاڑی بوٹیاں ،خود رو گھاس یاقدرتی طور پر اگنے والے درخت ہوں، ان میں عشر واجب نہیں ہوتا،اسی طرح وہ درخت جو کھیتوں کے کناروں پرسایہ کے حصول کے لیے، یا گھریلو ضروریات جیسے ایند ھن وغیرہ کی غرض سے اگائے جاتے ہوں ان میں بھی عشرواجب نہ ہوگا،البتہ اگر فروخت کی نیت سے درخت لگائے جائیں یا خودرو درختوں کی دیکھ بھال کی جائے تو ان کو فروخت کرنے کے بعد ان  کی قیمت میں عشر واجب ہوگا بشرطیکہ زمین بارانی ہو۔اور اگر بارانی نہ ہو بلکہ اس کی سیرابی پر خرچ آتا ہو تو نصف عشر واجب ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرکھیتوں کے کناروں پر خود رو سفیدے کے درخت ہوں یا اس کھیت کا مالک کھیت کے اطراف میں یہ درخت لگائےاور اس سے مقصد گھریلو ضروریات جیسے ایند ھن وغیرہ حاصل کرنا ہو  توان میں عشرواجب نہ ہوگا، البتہ اگر مالک نے  فروخت کی نیت سے  درخت لگائے  ہو  یا  خودرو درختوں کی  دیکھ بھال کی ہو  تو اگر زمین  بارانی ہو  تو فروخت کرنے کے بعد اس کی قیمت  میں عشر واجب ہوگا ،البتہ اگر بارانی نہ ہو بلکہ اس کی سیرابی پرخرچ  آتا ہو تو نصف عشر واجب ہوگا۔

 

فلا ‌عشر ‌في ‌الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر.(الفتاوی الهندية،کتاب الزکوة،الباب السادس في زکاةالزرع والثمار،ج:1،ص:247)

ومنها أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل الأرض به عادة ‌فلا ‌عشر ‌في ‌الحطب والحشيش والقصب الفارسي؛ لأن هذه الأشياء لا تستنمى بها الأرض ولا تستغل بها عادة؛ لأن الأرض لا تنمو بها بل تفسد فلم تكن نماء الأرض حتى قالوا في الأرض: إذا اتخذها مقصبة وفي شجره الخلاف، التي تقطع في كل ثلاث سنين، أو أربع سنين أنه يجب فيها العشر؛ لأن ذلك غلة وافرة.(بدائع الصنائع،کتاب الزکوة،فصل فی شرائط المحلية،ج:2،ص:505)

" والحول ليس بشرط لوجوب العشر حتى لو أخرجت الأرض في السنة مرارا ‌يجب ‌العشر ‌في ‌كل ‌مرة؛ لأن نصوص العشر مطلقة عن شرط الحول ولأن العشر في الخارج حقيقة فيتكرر الوجوب بتكرر الخارج."(بدائع الصنائع، كتاب الزكاة، فصل في شرائط المحلية، ج:2، ص:514)


فتویٰ نمبر : 10400/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں