بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

قسطوں کی ادائیگی سے پہلےآگے نقد بیچنا


سوال

اگر کوئی شخص قسطوں پر کوئی چیز خرید کر اس کی تمام قسطیں ادا کرنے سے پہلے وہ چیزآگے نقد  کم قیمت پر بیچ دے تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص ادھار پر کوئی چیز خرید کر اس کی مکمل رقم ادا کرنے سے پہلے اسی فروخت کنندہ کو نقد کم قیمت پر فروخت کرے تو یہ"بیع عینہ" کہلاتا ہے، جس سےحدیث میں ممانعت آئی ہے۔  تاہم اگر فروخت کنندہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو نقد کم قیمت پر فروخت کیا جائے تو یہ شرعاً جائز ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص قسطوں پر چیز خرید کر اس کی تمام قسطیں ادا کرنے سے پہلے اسے نقد کم قیمت پر فروخت کرے، تو یہ صرف اس صورت میں جائز ہوگا جب خریدی ہوئی چیز فروخت کنندہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو بیچی جائے۔

 

عن ابن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "‌إذا ‌تبايعتم ‌بالعينة، وأخذتم أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم"۔ (سنن أبي داؤد،‌‌کتاب الإجارۃ، باب في النهي عن العينة،ج:3، ص:291، رقم الحدیث:3462)

من اشترى شيئا بألف درهم (حالة أو نسيئة فقبضه ثم باعه من البائع بخمسمائة قبل نقد الثمن) ‌فالبيع ‌الثاني ‌فاسد۔۔۔إذا باع من غير البائع فإنه جائز أيضا بالاتفاق۔ (العنايةشرح الهداية، كتاب البيوع، باب بيع الفاسد، ج:6،ص:433)


فتویٰ نمبر : 3741/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں