بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عورتوں کا لوہے ،پیتل کی انگوٹھی استعمال کرنا


سوال

آج کل عورتیں سونے چاندی کے علاوہ عموماً دوسرے دھات مثلا: لوہے، پیتل وغیرہ کے زیورات استعمال کرتی ہیں اس میں لوہے وغیرہ کی انگوٹھی بھی ہوتی ہے تو کیا عورت کے لیےلوہے، پیتل کی انگوٹھی استعمال کرنا جائز ہے؟ نیز اگر لوہے، پیتل کی انگوٹھی پہن کر عورت نماز پڑھے تو اس نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

خواتین کے لئے سونے اور چاندی کی انگوٹھی کے علاوہ کسی اور دھات (لوہا،  پیتل وغیرہ) کی انگوٹھی پہننا مکروہ  ہے، اس لئے خواتین کو اس   سے اجتناب کرنا چاہیے۔البتہ خواتین  انگوٹھی کے علاوہ دیگر  زیورات دوسرے دھاتوں جیسے لوہے ،پیتل وغیرہ کی  پہن سکتی ہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں خواتین  کا سونے اور چاندی کے علاوہ لوہےیا پیتل کی انگوٹھی پہننا مکروہ ہے ۔ البتہ لوہے یا پیتل کی انگوٹھی پہن کر نماز پڑھنے سے نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

 

ويكره ‌للرجال ‌التختم بما سوى الفضة، كذا في الينابيع. والتختم بالذهب حرام في الصحيح، كذا في الوجيز للكردري. وفي الخجندي التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا.(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب العاشر في استعمال الذهب والفضة، ج:5، ص:388)


فتویٰ نمبر : 6207/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں