بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تنسیخ نکاح بذریعہ عدالت


سوال

میراشوہر مجھ پر ہر وقت ظلم کرتا تھا ہر وقت مارتا پیٹتا اور مختلف قسم کے طعنے دیتا اور مجھ پر طرح طرح کے شکوک و شبہات کرتا میں نے بہت صبر سے کام لیا اس امید سے کے  کبھی تو سدھر جائے گا لیکن اب میری صبر بھی جواب دے چکی, میرے لیے اس کے ساتھ وقت گزارنا مشکل ہو گیا پھر میں نے عدالت میں کیس دائر کیا اور صرف اس غرض سے دائر کیا تھا تاکہ   یہ سدھر جائے میرا مقصد خلع لینا نہیں تھا اور نو مہینے یہ کیس چلا اور اسی دوران میرے شوہر نے تنگ آکر طلاق دینے کی بات کی تو میں نے کیس فورا واپس لے لیا لیکن اس کے بعد میں  نے شوہر کے  ساتھ ایک مہینہ بمشکل گزارا وہ اس کے بعد بھی نہیں سدھرا ،وہی مار پیٹ اور طعنوں کے ساتھ ایک مہینہ گزارا،تو  میں نےدوسری مرتبہ عدالت میں کیس دائر کیا اور میرا شوہر عدالت میں  صرف ایک بار حاضر ہو ااس کے بعد عدالت نے اس کو  کئی دفعہ بلایا   لیکن پھر  حاضر نہیں ہوابالآخر عدالت نے تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کردی تو کیا یہ تنسیخ نکاح معتبر ہے یا نہیں؟

جواب

میاں بیوی کے مابین ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد اگر میاں اپنی بیوی کے حقوق ادا نہ کرے یا اُس پر ظلم و ستم کرے  تو اس صورت میں بیوی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ شوہر سےطلاق یا خلع  لے کر چھٹکارا حاصل کرے،اگر شوہر بیوی کو نہ ہی طلاق  یا خلع دے،اور نہ ہی اس کے حقوق ادا کرے بلکہ اس پر ظلم و ستم کرے تو اس صورت میں  یہ شوہر متعنت شمار ہو گا اور متعنت کی بیوی کو مسلمان حاکم یا  عدالت کی طرف رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، اور عدالت میں اگر بیوی  شوہر کے ظلم وستم  کو ثابت کرےتو عدالت شوہر کو  حکم دے گی کہ بیوی کو صحیح طریقے سے رکھو یا اسے طلاق دے دو،اگر شوہر کسی ایک بات پر بھی آمادہ نہ ہو ا،یا عدالت کا نوٹس ملنے کے باوجود بغیر کسی عذر کے شوہر خود یا اس کا کوئی وکیل عدالت میں  حاضر نہ ہوتو ایسی صورت میں اگر بیوی زوجیت سے نکلنا چاہتی ہے اور عدالت فسخ نکاح کی ڈگری دے تو اس سے بیوی  کو طلاق بائن واقع ہو جائے گی  ،اور عدت کے بعد دوسری جگہ بیوی کو نکاح کرنے کا حق حاصل ہو گا لیکن اگر شوہر یا اس کا وکیل عدالت میں حاضر ہو کر  بیان دے کہ شوہر بیوی کو رکھنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کے لیے تیارہے تو ایسی صورت میں عدالت فسخ نکاح کے حوالے سے ڈگری جاری نہیں کرسکتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرعورت نے عدالت میں یہ دعوی کیا ہو کہ میرا شوہر مجھ پر ظلم وستم کرتا ہے،اور عدالت نے مکمل  تحقیق کر لی ہو اور بیوی کا دعوی ثابت ہو گیا ہو، نیز شوہر کو نوٹس بھیجنے کے باوجود شوہر خود یا اس کا وکیل عدالت میں حاضر نہ ہوا ہوتو ایسی صورت میں عدالت نے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرتے ہوئے خلع کی جو ڈگری جاری کر دی ہو وہ تنسیخ نکاح کے حکم میں ہو گی اور عدالت کا یہ فیصلہ شرعا معتبر ہوگا لیکن اگر شوہر نے عدالت میں حاضرہو کریہ بیان دیا ہوکہ وہ بیوی کو ہر صورت رکھنے کے لیے تیار ہےیا دونوں کے مابین صلح ہوتی ہوتو پھرعدالت کا فیصلہ معتبر نہ ہوگا اور عورت بدستور شوہر کے نکاح میں رہے گی۔

 

قال الله تعالی :﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾۔(البقرۃ:229)

وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به.(الهداية ،باب الخلع ،ج:2 ص:404)

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقةالحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق و إلا طلق عليه ،قال محشيه أي طلق عليه الحاكم .(الحيلة الناجزة ،ص :133)

إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء.(الفتاوى الهندية ،الباب الثالث عشر في العدة ،ج: 1،ص:526)


فتویٰ نمبر : 7128/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں