بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ملازم کا ڈسکاؤنٹ کے پیسے اپنے پاس رکھنا


سوال

ہم ایک جگہ کام کرتے ہیں اور یہاں جو چیز بھی بکتی ہے، اس پر ہمیں ڈسکاؤنٹ دینے کا اختیار ہوتا ہے، ہم ایسا کرتے ہیں کہ ڈسکاؤنٹ نہیں دیتے اور ڈسکاؤنٹ کے پیسے خود لے لیتے ہیں، اس طرح مالک کا بھی نقصان نہیں ہوتا اور کسٹمر کو وہ چیز ریٹیل قیمت پر مل جاتی ہے اور ہمیں دس بیس روپے کا فائدہ ہوجاتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارا اس طرح کرنے سے یہ پیسے ہمارے لیے حرام ہوں گے یا حلال؟

جواب

اگر مالک کی طرف سے ملازم کو اختیار دیا گیا ہوکہ گاہک کو ڈسکاؤنٹ دےسکتا ہے، تو یہ ڈسکاؤنٹ گاہک کو ہی دیا جاسکتا ہے، ملازم اپنےلیے ڈسکاؤنٹ کی مقدار میں رقم نہیں لےسکتا۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں گاہک کو ڈسکاؤنٹ نہ دے کر وہ رقم اپنے پاس رکھ لینا جائز نہیں ہے، گاہک سے حاصل شدہ پوری رقم مالک تک پہنچانا ضروری ہے،اپنے لیے رکھنا حرام ہے۔

 

عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه".(شعب الإيمان، الباب الثامن،والثلاثون،وهو باب في قبض اليد عن الأموال المحرمة، رقم الحديث:5492، ج:4، ص:387)

(قال: قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ألا ") بالتخفيف للتنبيه (" لا تظلموا ") أي: لا يظلم بعضكم بعضا كذا قيل، والأظهر أن معناه: لا تظلموا أنفسكم، وهو يشمل الظلم القاصر والمعتدي (" ألا ") للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، وأن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، والتخصيص لديه (" لا يحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي(" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه".(مرقاة المفاتيح، کتاب البيوع، باب الغصب والعارية، ج:5، ص: 1974)

"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي".(مجلة الأحكام العدلية، المقالةالثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة:97)


فتویٰ نمبر : 6181/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں