بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

نذرمیں مسکینوں کو کھانا کھلانے کی بجائے اس کی قیمت دینا


سوال

ایک شخص نےمتعین  تعداد میں غریبوں کو کھانا کھلانے کی نذر مانی تھی، کیااس کے بدلے میں وہ غریبوں کو پیسے دے سکتاہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی معین چیز کی نذر مان لے تو اس کے لیے اس چیز کے بدلے اس کی قیمت یا قیمت کے برابر دوسری چیز صدقہ کرنا جائز ہے، اور منذورچیز کے مستحق صرف فقراہوتےہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص متعین تعداد میں غریبوں کو کھانا کھلانے کی نذر  مان لے  اور بعد میں اس کے بدلے  پیسےدینا چاہے تو یہ شرعاً جائز ہے ۔

 

"(نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه. (الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الأيمان،ج:5، ص:525)

"ويجوز دفع القيم في الزكاة عندنا، وكذا في الكفارات وصدقة الفطر والعشر والنذر كذا في الهداية"۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الزكاة، الفصل الثاني في العروض، ج:1، ص:243)


فتویٰ نمبر : 6198/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں