بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

نابالغ بچوں کا بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانا


سوال

چھوٹے بچے مسجد میں قرآن مجید پڑھنے کے لیے جاتے ہیں  لیکن ان کا  وضو نہیں ہوتا، اور وہ بغیر وضو کے قرآن مجید کو ہاتھ لگاتے ہیں، کیا اس طرح بچوں کا بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نابالغ بچے شرعی احکام کے مکلف نہیں ہوتے، اس لیے ان پر وضو فرض نہیں ہے، لہذا ان کے لئے بغیر وضو قرآن مجید کو ہاتھ لگانے کی گنجائش ہے، تاہم  اگر بچےسمجھدار ہوں تو انہیں باوضو ہوکر قرآن کریم چھونے کا عادی بنانا چاہیے۔

 

"(ولا) يكره (مس صبي لمصحف ولوح) ولا بأس بدفعه إليه وطلبه منه للضرورة إذ الحفظ في الصغر كالنقش في الحجر۔ قوله: (ولا یکرہ مس صبي) فیه أن الصبي غیر مکلف، والظاهر أن المراد لا یکرہ لولیه أن یترکه یمس۔ (للضرورۃ) لأن في تکلیف الصبیان وأمرهم بالوضوء حرجاً بهم، وفي تاخیرہ إلی البلوغ تقلیل حفظ القرآن"۔(رد المحتارعلى الدر المختار،كتاب الطهارة، مطلب یطلق الدعاء علی ما یشمل الثناء، ج:1، ص:349)  


فتویٰ نمبر : 10395/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں