بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

سودی بینک کے لیے کام کرنے پر معاوضہ لینے کا حکم


سوال

ایک کمپنی سودی بینک سے لون لے کر ہسپتال بنانا چاہتی ہے۔ ہسپتال کی تعمیر کے دوران عمارت کے ڈیزائن، کوالٹی اور معیار کو چیک کرنے کے لیے بینک  کسی انجینئر کی خدمات حاصل کرتا ہے اوراسے اس کام کا معاوضہ دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی روسے کسی انجینئر کا بینک کے لیے مذکورہ بالا خدمت سر انجام دے کر معاوضہ وصول کرنا جائز اور حلال ہے یا نہیں؟

جواب

جن بینکوں میں سودی معاملات ہوتے رہتے ہیں ان بینکوں میں وہ ملازمتیں جن کا تعلق براہ راست سودی معاملات کے ساتھ ہو یا سودی معاملات میں تعاون کرنا پڑتا ہو ، تو وہ ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں، تاہم جن شعبوں کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے نہ ہو، ان میں ملازمت کرنے کی گنجائش پائی جاتی ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرانجینئر بینک کے لیے  مذکورہ  خدمات سرانجام دیتا ہو اوراس کاسودی معاملات کرنے، لکھنے یا محفوظ کرنے سےبراہ راست  کوئی تعلق نہ ہو تو بینک کے لیے اس  طرح ملازمت کرنے  پر معاوضہ لینے کی گنجائش ہے۔

 

عن جابر قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل ‌الربا ‌ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء.(صحيح لمسلم، كتاب البيوع، باب لعن آكل الربا ومؤكله، رقم الحديث:1598)

عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا ‌وموكله ‌وكاتبه وشاهديه، وقال:هم سواء )رواه مسلم(. قوله (وكاتبه وشاهديه): قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل (وقال)، أي: النبي صلى الله عليه وسلم (هم سواء)، أي: في أصل الإثم، وإن كانوا مختلفين في قدره.(مرقاة المفاتيح، باب الربا، الفصل الأول، ج: 5، ص:1916)


فتویٰ نمبر : 3753/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں