بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ایک قبر سے دوسری قبر میں میت منتقل کرنا


سوال

 کیا لواحقین کے لیے میت کو ایک قبر سے نکال کر دوسری جگہ، جہاں آباو اجداد کی قبریں ہوں، منتقل کرنا جائز ہے؟

جواب

اگرمیت کو کسی ایسی زمین میں دفن کیا گیا ہو ،جو غصب کی گئی ہو یا شفعہ کی بنا پر اس زمین میں کسی کا استحقاق ثابت ہو جائےتو مالک زمین کو اختیار ہے کہ وہ مردہ کو وہاں سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کا حکم دے یا زمین کو ہموار کرکے استعمال میں لائے، لہذا جہاں کہیں ایسی صورتیں پیش آجائے تو میت کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی گنجائش ہے ،اس کے علاوہ میت دفنانے کے بعداس کی منتقلی جائز نہیں ۔

 صورت مسئولہ کے مطابق لواحقین کے لیے میت کو بلا شرعی وجہ ایک قبر سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں۔

 

(ولایخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته بالأرض كما جاز زرعه والبناء عليه إذا بلي وصار ترابا زيلعي.(الدرالمختارمع ردالمحتار، كتاب الصلوة، ‌‌باب صلاة الجنازة،ج:2، ص:238)

 إذا دفن الميت في أرض غيره بغير إذن مالكها،فالمالك بالخيار إن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوّى الأرض.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل السابع في الشهيد، ج:1، ص:167)


فتویٰ نمبر : 10390/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں