بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

پاکی کے بعد پندرہ دن سے پہلے دوبارہ خون آنا


سوال

 اگر کسی عورت کو حیض ختم ہونے کےبارہ دن بعد دوبارہ خون آنا شروع ہو جائے تو کیا وہ ایام حیض کے شمار ہوں گے؟نیز ان ایام میں نماز، روزہ اور شوہر سے ملنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایک حیض کے ختم ہونے اور دوسرے حیض کے شروع ہونے کے درمیان کم از کم پندرہ دن پاکی ہونا ضروری ہے،اگر پندرہ دن سے پہلے دوبارہ خون شروع ہوجائے  تو وه حیض کا خون نہیں ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی  عورت کا حیض ختم ہوگیا اورپھر بارہ دن بعد دوبارہ خون جاری ہوگیا تو دوسراخون حیض کا خون نہیں ، لہذا عورت کا نماز،روزہ کی ادائیگی اور شوہر سے ملنا درست ہے۔ نیز ان ایام میں اگر مذکورہ خاتون کو خون اتنے وقفے سے آتاہو کہ کپڑے پاک کرکے باوضو ہوکر وقتی فرض نماز ادا کرسکتی ہو تو ایسی صورت میں پاکی کا مکمل اہتمام کرتے ہوئے نماز ادا کرنی ہوگی ، اور اگر خون مسلسل جاری  ہو اور اتنا وقت بھی نہ مل رہا ہو کہ پاک صاف ہوکر وقتی فرض نماز ادا کرسکے ،تو ایسی صورت میں  ہرنماز کے وقت میں نیا وضو کرناہوگا، پھر اس وضو سے  اگلی نماز کے وقت تک جتنے فرائض و نوافل  چاہےپڑھ سکتی ہے۔

 

(قوله: وأقل الطهر خمسة عشر يوما) يعني الطهر الذي يكون كل واحد من طرفيه حيضا بانفراده. (الجوهرةالنيرة، كتاب الطهارة، باب الحيض، ص:33)

‌وأقل ‌الطهر) ‌بين ‌الحيضتين ‌أو ‌النفاس ‌والحيض (‌خمسة ‌عشر ‌يوما) ‌ولياليها ‌إجماعا.(الدرالمختار، كتاب الطهارة، باب الحيض،ص:43)

(قوله: وحكمه حكم دم الرعاف لا يمنع الصلاة ولا الصوم ولا الوطء)( الجوهرةالنيرة، كتاب الطهارة، باب الحيض، ص:33)

(‌وصاحب ‌عذر ‌من ‌به ‌سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاةمفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لان الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لانه الانقطاع الكامل. (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحو (لكل فرض) اللام للوقت كما في - لدلوك الشمس.(الاسراء: 81) (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالاولى (فإذا خرج الوقت بطل).(الدر المختار، ‌‌كتاب الطهارة، ‌‌باب الحيض، ص:45)


فتویٰ نمبر : 10392/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں