بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی لکڑی استعمال کرنے کا حکم


سوال

اگر کسی جگہ مسجد شہید کی گئی، تو کیا مسجد کے چھت کی لکڑی خود  استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مسجد کےتعمیراتی ساز وسامان کو اسی مسجد کی  تعمیر نومیں استعمال کرنا  ضروری ہے۔ البتہ اگر اس سامان کی  کوئی  ضرورت نہ  ہو اور فارغ رکھنے کی صورت میں اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تواس کو  فروخت کرکے اس کی رقم اسی مسجد کی ضروریات میں خرچ کر نا ضروری ہے، فروخت کی صورت میں کوئی بھی خرید سکتاہےاور خریدنے کے بعداسے ذاتی استعمال  میں لانا درست ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کسی جگہ مسجد  شہید کی گئی تو اس مسجد کے چھت کی لکڑی خود بلاعوض استعمال کرنا جائز نہیں، البتہ اگر لکڑی کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کا عوض مسجد میں جمع کرنے کے بعد اسے ذاتی استعمال میں لانے کی گنجائش ہے۔

‌

سئل ‌شيخ ‌الإسلام ‌عن ‌أهل ‌قرية تفرقوا وتداعى مسجد القرية إلى الخراب وبعض المتغلبة يستولون على حسب المسجد وينقلون إلى ديارهم هل لواحد من أهل القرية ان يبيع الحسب بأمر القاضي ويمسك الثمن ليصرفه إلى بعض المساجد وإلى أهل المسجد؟ قال: نعم.(المحيط البرهاني،كتاب الوقف، الفصل الرابع والعشرون:في الأوقاف...،ج:6،ص:225)

‌أهل ‌المسجد ‌لو ‌باعوا غلة المسجد أو نقض المسجد بغير إذن القاضي الأصح أنه لا يجوز.(الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادي عاشر في المسجد..،الفصل الثاني في الوقف..،ج:2،ص:463)


فتویٰ نمبر : 6179/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں