بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح خواں کانکاح کے وقت لڑکی کا نام غلط لینا


سوال

نکاح خواں نکاح کے وقت لڑکی کا نام درست نہ لے اور لڑکی کا وکیل( والد صاحب )موجود ہو تو کیا نکاح درست ہوگا ؟یعنی مولانا صاحب بولے "صائمہ بنت  فلاں" کا نکاح فلاں کے ساتھ کیا" اور فلاں کہے" میں نے قبول کیا"حالانکہ اصل نام آسمہ بنت فلاں ہے،لڑکے نے صائمہ پر قبول کرلیا اگرچہ لڑکے کی مراد فلاں صاحب کی بیٹی ہی ہےلیکن نام غلط لیا گیااب نکاح ہوا ہےیانہیں؟

جواب

نکاح کی مجلس میں اگر لڑکی موجودہواور وہ خود ایجاب وقبول کرے یا اس کی طرف اشارہ کیا جائے تو نام غلط لینے کے باوجود نکاح صحیح  ہے اور اگر نکاح کی مجلس میں لڑکی موجود نہ ہو اور نکاح خواں نے  غلط نام لے کرنکاح پڑھایا ہو تو ایسا نکاح منعقد نہیں ہوتا ؛ اس لئے کہ اس صورت میں لڑکی متعین نہیں ہوئی، جب کہ نکاح میں لڑکی کا متعین ہونا ضروری ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر نکاح کی مجلس میں لڑکی موجود نہ ہو اور نکاح خواں نے  غلط نام لے کرنکاح پڑھایا ہو تو نکاح منعقد نہیں ہوا ،لہذا نکاح دوبارہ پڑھانا ضروری ہے۔

 

ومنها أن يكون الزوج والزوجة معلومين. (الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الأول، ج:1، ص:335)

والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفةعندهم وإلا فلا …. لو زوجه بنته ولم يسمها وله بنتان لم يصح للجهالة بخلاف ما إذا كانت له بنت واحدة إلا إذا سماها بغير اسمها ولم يشر إليها فإنه لا يصح كما في التنجيس.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، ج:3،  ص:22)

"(‌غلط ‌وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح.(قوله:لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط خلافا لابن الفضل وعند الخصاف يكفي مطلقا والظاهر أنه في مسألتنا لا يصح عند الكل؛ لأن ذكر الاسم وحده لا يصرفها عن المراد إلى غيره، بخلاف ذكر الاسم منسوبا إلى أب آخر، فإن فاطمة بنت أحمد لا تصدق على فاطمة بنت محمد تأمل، وكذا يقال فيما لو غلط في اسمها (قوله: إلا إذا كانت حاضرة إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشارا إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية، لما في التسمية من الاشتراك لعارض فتلغو التسمية عندها، كما لو قال اقتديت بزيد هذا فإذا هو عمرو فإنه يصح."(رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، قبيل فصل في المحرمات، ج:3، ص:26)


فتویٰ نمبر : 7137/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں