بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

قرض کے بدلے کرایہ دار سے کرایہ کم کرنا


سوال

ایک گھر کا ماہانہ کرایہ 30 ہزار  روپےہے اور گھر کا مالک کرایہ دار سے کہتا ہے کہ مجھے 10 لاکھ روپے بطورِ قرض دے دو تاکہ میں اس سے کاروبار کروں اور اس کے بدلے میں آپ کا کرایہ 5 ہزار روپے ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا مالک کو 10 لاکھ دینا جائز ہے یا نہیں تا کہ ماہانہ کرایہ کم کرے؟

جواب

اگر قرض میں کوئی ایسی شرط لگائی جائے جس کی وجہ سےقرض خواہ کو فائد ہ ہو تو اس طرح معاملہ کرنا سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

صورت مسئولہ میں گھر کے مالک  کاقرض رقم کی وجہ سے کرایہ دار کے لیے کرایہ  میں کمی کرنا،سود میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔

 

قال الله تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾(البقرة:275)

(كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:8، ص:295)

أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض.(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل في الشروط، ج:10، ص:597)


فتویٰ نمبر : 3734/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں