بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

امانت میں تصرف کرنا


سوال

میں گیس کا کام کرتا  ہوں اور  گاہک کو گیس بیچنے کی خاطرسلنڈر امانت کے طور پر د یتا ہوں  کہ  اگلی دفعہ جب گیس خریدو گے تو پچھلا سلنڈر واپس کر کے دوسرا سلنڈر لے لینا،عرف میں کاروبار ایسے ہی چلتا ہے۔ میرے ساتھ ایک   گاہک نے فراڈ کیا   میں نے اس کو جو سلنڈر  دیا تھا  اس نے وہ آگے کسی کو بیچ دیا   تو کیا شرعاً مالک کی اجازت کے  بغیر سلنڈر   بیچنا  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ  امانت کی چیز  مالک کی اجازت کے بغیر بیچنا اوراس کواستعمال کرنا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر سائل نے گا ہک کوگیس کا  سلنڈر  امانت کے طور پردیا  تھا اور اس نے مالک کی اجازت کے  بغیرسلنڈر آگے کسی کو بیجا ہو تو اس کے لیے اس کا بیجنا بیع باطل کے حکم میں داخل ہے لہذا، وہ بیع سرے سے منعقد نہیں ہوئی ہے۔

 

 قال الله تعالى :﴿فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ ﴾۔( البقرۃ:  (283

عن أنس رضي الله عنه قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " لا إيمان ‌لمن ‌لا ‌أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له "۔(السنن الكبرى،‌‌باب الوفاء بالعهد إذا كان العقد مباحا وما ورد من التشديد في نقضه،رقم الحديث:18851)

وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه ‌عند ‌طلب ‌مالكه، كذا في الشمني.الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن۔(الفتاوى الهندية،كتاب الوديعة،الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة وركنها وشرائطها وحكمها،ج:4،ص:338)


فتویٰ نمبر : 3731/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں