بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

خالہ کی پوتی سے نکاح کرنا


سوال

 یوسف کی والدہ کی بڑی بہن کی پوتری (پوتی) یوسف سے نکاح کرنا چاہتی ہے جبکہ رشتہ داروں کا کہنا یہ ہےکہ یوسف اس لڑکی کا چچا ہے اور یہ لڑکی یوسف کی بیٹی ہے۔چچا کا، بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے کیا ان کا یہ کہنا درست ہے کہ ان دونوں کا آپس میں نکاح کرنا درست نہیں ؟

جواب

جن محرمات سے نکاح جائز نہیں ان میں خالہ کی پوتی داخل نہیں ،اس لیے اگر کوئی خالہ کی پوتی سے نکاح کر لے تو نکاح منعقد ہوگا۔ بشرطیکہ رضاعت یا مصاہرت کا  رشتہ  نہ ہو۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر سائل کا اپنی خالہ کی پوتی کے  ساتھ رضاعت یا مصاہرت وغیرہ کا رشتہ  نہ  ہو تو  اس  سے نکاح جائز ہے۔

 

﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (23) ﴾(النساء:23)


فتویٰ نمبر : 7138/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں