بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/08/2026

دارالافتاء

 

عین کعبہ سے 45ڈ گری تک قبلہ کا انحراف


سوال

ہمارا ایک مسجد تھا جس کے قبلہ کی رخ عین قبلہ سے منحرف تھا لیکن انحراف45ڈگری کم  تھا زیادہ نہیں تھا اب اس کو دوبارہ تعمیر کیا جارہا ہے تو کیا ہم اس میں عین کعبہ سے 45ڈگر ی تک انحراف کرسکتے ہے یا نہیں کیونکہ عین کعبہ کی طرف رخ کرنے میں ہماری مسجد کی جگہ تنگ ہو جائے گی اور مسجد کا پورا نظام متاثر ہوگا ؟

جواب

جن لوگوں کو بیت اللہ نظر آتا ہو ان کے لیے عین ِ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا فرض ہے اورعینِ کعبہ سے انحراف کی صورت میں نماز ادا نہ ہوگی،البتہ جن کو بیت اللہ نظر نہ آتا ہوان کے لیے عین ِ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا لازم نہیں بلکہ جہتِ  قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا درست ہے اور جہتِ قبلہ عینِ قبلہ سے دائیں بائیں 45،45 ڈگری تک ہے ۔لہذا اگر کوئی شخص عین قبلہ سے اتنے انحراف سے نماز ادا کرے کہ وہ دائیں بائیں 45 ڈگری کے اندراندرہوتوایسی صورت میں اس کی نمازادا ہوجائے گی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر دوباره مسجد تعميركرتے وقت قبلہ کا رخ عین کعبہ کی طرف کرناممکن ہو تو اس کا رخ عین کعبہ کی طرف کیا جائے البتہ اگر تعمیراتی ضرورت کے پیش نظرعین کعبہ کی طرف رخ ممکن نہ ہوتو چونک 45ڈگری تک عین قبلہ سے انحراف کی گنجائش ہے اس لیے 45ڈگری تک انحراف کیا جاسکتا بشرطیکہ فتنہ و فساد یا انتشار کا باعث نہ بنےاور کوشش کی جائے کہ جتنا ممکن ہوسکے انحراف کم سے کم کیا جائے ۔

 

فول وجهك شطر المسجد الحرام" و أجمعوا على أن كل من غاب عنها أن يستقبل ناحيتها و شطرهاوتلقاءها.(تفسيرالقرطبي،ج:2،ص:160) 

 قوله تعالى [فول وجهك شطر المسجد الحرام] مع اتفاق المسلمين على أن سائر جهات الكعبة قبلة لموليها و قوله تعالى لكل وجهة هو موليها] يدل على أن الذي كلف به من غاب عن حضرة الكعبة إنما هو التوجه إلى جهتها في غالب ظنه لا إصابة محاذاتها غير زائل عنها إذ لا سبيل له إلى ذلك .(أحكام القرآن للجصاص ،ج:1،ص:133)

استقبال القبلة فللمكي إصابة عينها ولغيره إصابة جهتها.(كنز الدقائق، باب شروط الصلاة،ج:1،ص:159)

ومن القواعد الفلكية إذا كان الانحراف عن مقتضی الأدلة أكثر من خمس وأربعين درجة يمينة أو يسرة يكون ذلك الانحراف خارجا عن جهة الربع الذي فيه مكة المشرفة من غير إشكال.(الفتاوی الخيرية،كتاب الصلوة،ج:1،ص:109)

وجهتها ‌أن ‌يصل ‌الخط الخارج من جبين المصلي إلى الخط المار بالكعبة على استقامة بحيث يحصل قائمتان. أو نقول: هو أن تقع الكعبة فيما بين خطين يلتقيان في الدماغ فيخرجان إلى العينين كساقي مثلث، كذا قال النحرير التفتازاني في شرح الكشاف، فيعلم منه أنه لو انحرف عن العين انحرافا لا تزول منه المقابلة بالكلية جاز، ويؤيده ما قال في الظهيرية: إذا تيامن أوتياسر تجوز لأن وجه الإنسان مقوس لأن عند التيامن أو التياسر يكون أحد جوانبه إلى القبلة.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب شروط الصلاة،ج:2،ص:109)


فتویٰ نمبر : 10398/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں