بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
دو یا تین دکانوں سے ریٹ معلوم کرنے کا حکم
سوال
آج کل جو معاشرے میں مشہور ہے کہ اگر کوئی چیز خریدنی ہو تو تو کم از کم تین دکانوں میں ریٹ معلوم کرنا چاہیے کیونکہ یہ سنت ہے ،تو کیا اس کا ثبوت کسی حدیث میں ہے یا نہیں ؟
جواب
کسی چیز کو خریدنے سے پہلے کم از کم تین دکانوں سے قیمت معلوم کرنا احادیث مبارکہ سے براہ راست ثابت نہیں ۔ لہذا دو تین جگہ سے ریٹ معلوم کرنے کو سنت کہنا درست نہیں، تاہم بھاؤ تاؤ کرنا نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔
قال محمد بن إسحاق: حدثني وهب بن كيسان عن جابر بن عبد الله قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى غزوة ذات الرقاع من نخل على جمل لي ضعيف فلما قفل رسول الله صلى الله عليه وسلم جعلت الرفاق تمضي وجعلت أتخلف حتى أدركني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: مالك يا جابر؟ قلت يا رسول الله أبطأ بي جملي هذا. قال: أنخه، قال فأنخته وأناخ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: أعطني هذه العصا من يدك أو اقطع عصا من شجرة ففعلت فأخذها رسول الله صلى الله عليه وسلم فنخسه بها نخسات ثم قال: اركب فركبت فخرج والذي بعثه بالحق يواهق ناقته مواهقة. قال: وتحدثت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:أتبيعني جملك هذا يا جابر؟ قال: قلت بل أهبه لك قال: لا ولكن بعنيه، قال: قلت فسمنيه، قال: قد أخذته بدرهم، قال قلت: لا إذا تغبنني يا رسول الله، قال: فبدرهمين، قال: قلت لا، قال: فلم يزل يرفع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بلغ الأوقية، قال فقلت: أفقد رضيت؟ قال: نعم، قلت فهو لك، قال: قد أخذته ۔۔۔قال: ودعا بلالا فقال: اذهب بجابر فأعطه أوقية، قال: فذهبت معه فأعطاني أوقية وزادني شيئا يسيرا، قال: فو الله ما زال ينمي عندي ويرى مكانه من بيننا حتى أصيب أمس فيما أصيب لنا. يعني يوم الحرة.( البداية والنهاية، قصة جمل جابر،ج:٥،ص:٥٧٠)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں