بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آن لائن آرڈر لینے کے بعد مطلوبہ چیز خرید کرآگے گاہک کو فروخت کرنا


سوال

ایک شخص آن لائن چیزیں فروخت کرتا ہے، بیچنے والا اپنے پاس بہت کم یا زیرو فیصد سامان رکھتا ہے، جب کسٹمرز فیس بک یا دراز پر کوئی چیز دیکھ کر اپنا آرڈر بک کرواتا ہے، تو وہ شخص آرڈر لے کر مارکیٹ سے وہ چیز خرید کر اس کسٹمرز کو دے کر اس کی قیمت وصول کر لیتا ہے، تو کیا اس طرح تجارت کرنا درست ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ جو چیز ملکیت اور قبضہ میں نہ ہو، اسے آگے فروخت نہیں کیا جا سکتا  البتہ اس مرحلہ پر خرید و فروخت کا وعدہ کیا جاسکتا ہے،کہ میں آپ کو فلاں چیز فروخت کروں گا، پھر ملکیت اور قبضہ حاصل ہونے کے بعد اسے باقاعدہ فروخت کیا جاسکتا ہے۔

صورت مسئولہ  میں چونکہ بیچی جانے والی چیز (Product) فروخت کرنے والی کی ملکیت میں نہیں ہوتی، بلکہ آرڈر ملنے کے بعد فروخت کرنے والا اسے خرید کر آگے بھیجتا ہے٬ اس لئے آرڈر لینے کے مرحلہ میں حتمی خرید فروخت کا معاملہ کرنا جائز نہیں ہے٬ بلکہ یہ وعدہ کے درجے میں ہو کہ فلاں تاریخ تک آپ کو فلاں چیز فروخت کروں گا٬ پھر جب وہ چیز خرید کر کسٹمر کو روانہ کرےگا اور کسٹمر وصول کرلےتو اس وقت عملی طور پر (تعاطی کے ذریعے) معاملہ مکمل سمجھا جائے گا۔

 

"عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال: من ابتاع طعامًا فلا بيعه حتی يستوفيه، قال ابن عباس: وأحسب کل شيء مثله".(الصحيح لمسلم، باب بطلان البيع قبل القبض، رقم الحديث:3720)

"ومنها: القبض في بيع المشتري المنقول، فلا يصح بيعه قبل القبض،لما روي أن النبي عليه السلام نهى عن بيع ما لم يقبض".(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب البيوع، باب القبض في بيع المشتري المنقول، ج:4، ص:394)

( لا ينعقد بلفظين، أحدهما الماضي، والآخر بلفظ المستقبل ) وإنما لا ينعقد بذلك ؛لأن النبي صلى الله عليه وسلم استعمل فيه لفظ الماضي الذي يدل على تحقق وجوده فكان الانعقاد مقتصرا عليه ، ولأن لفظ المستقبل إن كان من جانب البائع كان عدة لا بيعا، وإن كان من جانب المشتري كان مساومة۔(العناية شرح الهداية، كتاب البيوع، ج:3،ص:45)


فتویٰ نمبر : 3729/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں