بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

او جی ڈی سی ایل کمپنی سے بلا سود قرضہ لینا


سوال

میں اوجی ڈی سی ایل میں 10 سال سے زائد عرصے سے ملازم ہوں۔ 10 سال کی مسلسل سروس کے بعد ہمیں کمپنی کی جانب سے بغیر سود کے قرض حاصل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے، جو 150 ماہانہ اقساط میں واپس کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ قرض بغیرسود کے ہے، اس لیے قرض کی رقم ماہانہ اقساط میں کاٹی جاتی ہے، اور قرض لینے والے کو وہی اصل رقم واپس کرنی ہوتی ہے جو قرض کے طور پرلی گئی ہو۔ قرض کی منظوری کے لیے 1ضامن اور 2 گواہ لازم ہیں۔ اگر قرض لینے والا کمپنی چھوڑ دیتا ہے اور قرض واپس نہیں کر پاتا تو یہ قرض اُس شخص سے وصول کیا جاتا ہے جس نے ضمانت دی ہو۔ ماضی میں ایسی صورتحال پیش آئی جہاں قرض لینے والا انتقال کر گیا اوراس کے اہلِ خانہ قرض واپس کرنے کے قابل نہیں تھے۔ اسی وجہ سے کمپنی نے ایک اسکیم تیار کی تاکہ قرض لینے والے کے انتقال کی صورت میں قرض واپس کیا جا سکے۔ قرض لینے والے کے انتقال کی صورت میں قرض ضامن سے وصول نہیں کیا جاتا۔ کمپنی نے ایک نظام وضع کیا ہے جس کے تحت مرحوم کے قرض کو پورا کیا جاتا ہے۔ کمپنی نے ایک بغیر سود والا اکاؤنٹ کھولا ہے اور ایک مقررہ رقم ان تمام ملازمین سے کاٹی جاتی ہے جنہوں نے کمپنی سے قرض لیا ہوا ہو۔ یہ رقم اُس وقت کاٹی جاتی ہے جب کوئی قرض لینے والا انتقال کرجاتا ہے، تاہم جب قرض کی رقم پوری ہو جائے تو پھر مزید رقم دیگر ملازمین سے نہیں کاٹی جاتی۔ مندرجہ بالا تمام نکات کومدنظر رکھتے ہوئے، براہِ کرم یہ وضاحت فرمائیں کہ آیا اس کمپنی سے بغیرسود کے قرض لینا جائز ہے؟ کیونکہ قرض لینے والے ملازمین کے انتقال کی صورت میں دیگر ملازمین سے اضافی رقم کاٹی جاتی ہے تاکہ مرحوم کا قرض پورا کیا جا سکے۔ ملازمین قرض کے طریقہ کارکو تبدیل نہیں کرسکتے، انہیں کمپنی کے قواعد وضوابط پرعمل کرنا ہوتا ہے اگر وہ قرض لیتے ہیں، اور یہ تمام قواعد کمپنی کی انتظامیہ نے خود وضع کیے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کوقرض پر پیسے دے کر قرضدار سےکسی اضافی چیز لینے کا مطالبہ نہ کرے تو یہ قرض حسنہ شمار ہوگا، اور قرض دینے والا شخص مستحق اجروثواب ہوگا،نیز اگرکوئی کمپنی اپنے ملازمین کو بلا سود قرضہ کی سہولت فراہم کرتی ہے،تو یہ کمپنی کی جانب سے اپنے ملازمین کے ساتھ احسان کا معاملہ ہے، لیکن اگر کمپنی نقصان اورخسارہ سے بچنے کے لیے اپنے قرض داروں پر کچھ ایسی شرائط لگادے،جو شریعت کے منافی  ہو، توایسی شرائط لگانا شرعاً جائز نہیں۔

صورت مسئولہ میں اگرکمپنی کی انتظامیہ نے خسارہ سے بچنے کے لیے یہ قاعدہ وضع کیا ہوکہ فوت شدہ مقروض کا قرضہ دوسرے قرض داروں سے وصول کیا جائے گا تو اگرچہ قرض داروں نے باقاعدہ اس بات کو مان لیاہواور قرض کا معاہدہ کرتے وقت اس پر دستخط بھی  کرچکے ہوں،تو پھر بھی ان سے اس طرح کی کٹوتی کرنا شرعاً جائز نہیں کیونکہ قرض دہندہ کو قرض کی وجہ سے جو مشروط نفع ملے وہ شرعاً سود کے زمرے میں آکرناجائز شمار ہوتا ہے۔

اسی طرح یہ معاملہ غررسے بھی خالی نہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ ملازمین قرض داروں میں سے کتنے مدت قرض کے دوران مریں گے اور ایک قرض دار ملازم کو فوت شدہ ملازمین کے بقایاجات میں سے کتنے ادا کرنے ہیں ،لہذا اس صورت حال میں ملازمین کےلیے کمپنی سے اس طرح کا بلاسود قرض لینا شرعاً جائز نہیں۔

 

مطلب كل قرض جر نفعا حرام:قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا .(ردالمحتار على الدر المختار،ج:5،ص:166)

ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد۔۔۔ولا بيع الحمل ولا النتاج" لنهي النبي عليه الصلاة والسلام عن بيع الحبل وحبل الحبلة ولأن فيه غررا.قال: "ولا اللبن في الضرع" للغرر فعساه انتفاخ، ولأنه ينازع في كيفية الحلب، وربما يزداد فيختلط المبيع بغيره.( الهداية،باب البیع الفاسد،ج:5،ص:96،95)

الغرر:ما يكون مجهول العاقبة لا يدرى أيكون أم لا.(التعريفات‎،ص:161) 


فتویٰ نمبر : 3910/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں