بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 10/10/2026

دارالافتاء

 

مطاف جانے کے لیے احرام باندھنا


سوال

موجودہ صورت حال میں مسجد حرام میں مطاف میں اترنے کے لئے سعودی حکومت کی طرف سے یہ پابندی ہے کہ صرف احرام والوں کو نیچے مطاف میں اتر کر عمرہ کرنے کی اجازت ہے۔ بغیر احرام کے سادہ کپڑوں میں مطاف کے گراؤنڈ میں بالکل نہیں جاسکتے۔ اگر نفل طواف سادہ کپڑوں میں کرنا ہو تو اوپر والے منزلہ ہی سے کرنا پڑتا ہے۔ جس میں بہت زیادہ وقت لگنے کے ساتھ ساتھ بہت لمبی چکر لگانا پڑتا ہے۔ جوکہ بہت زیادہ باعث مشقت ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر کوئی شخص کعبہ کے قریب جاکر نفل طواف کرنے کی غرض سے بغیر عمرہ کی نیت کئے صرف احرام کے چادر اوڑھ کر محرمین کی شکل و صورت اپنائے اور ان کے ساتھ مطاف میں اتر جائے تو از روئے شریعت اس کا یہ عمل جائز ہوگا یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ حکومتی قوانین  جب تک  شرعی احکام سے متصادم نہ ہو ں تو اس کا احترام اور اس کی پاسداری ضروری ہو تی ہے۔

صورت  مسئولہ  کےمطابق   آج کل سعودی حکومت کی جانب سے مطاف میں صرف عمرہ کا احرام باندھنے والوں کو طواف کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ نفلی طواف کرنے والوں کو وہاں طواف کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔  یہ قانون زائرین ہی کی سہولت کے لیے بنایا گیا ہے، لہذا اس قانون کی رعایت کرنی چاہیے۔ مطاف میں نفلی طواف کرنے کی غرض سے احرام کی چادریں باندھنا  چونکہ حقیقت کے برعکس ظاہر کرنا ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی شخص احرام کی چادریں پہن کر مطاف میں نفلی طواف کرلے تو اس کا طواف ادا ہوجائے گا۔

 

أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع وإلا فلا يتبع ولا تجوز مخالفته.(الدر المختار، كتاب القضا،ج:5،ص:422)

وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به وينهاهم عنه ؛لقول الله تعالى:﴿يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم﴾ [النساء: 59] وقال عليه الصلاة والسلام:" اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله تعالى" ولأنه نائب الإمام وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنه طاعة الإمام إلا أن يأمرهم بمعصية فلا تجوز طاعتهم إياه فيها ؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا ؟ فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية ؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد والله تعالى أعلم.(بدائع الصنائع، كتاب السير، فصل فيما يندب إليه الإمام عند بعث الجيش أو السرية إلى الجهاد،ج: 7، ص: 99)


فتویٰ نمبر : 10380/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں