بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ادھار فروخت کی ہوئی چیز واپس کم قیمت پرنقد خریدنا


سوال

میں نے ایک گاڑی بیچ دی تین  لاکھ روپے پر ، کچھ دنوں کی مدت پرادھار مثلا ایک ہفتے کے اندر پیسے وصول کرنےہیں ، ایک ہفتے کے بعد میں پیسے وصول کرنے گیا تو وہ شخص بولا میرے پاس پیسے نہیں ہیں، اب میں اس گاڑی کو بیچنا چاہتا ہوں میں مجبور ہوں ، تو میں اس  سے گاڑی  کم قیمت پر خریدنا چاہتا ہو دولاکھ روپے پر ، تو کیا دو لاکھ روپے پر میرے لئے خریدنا جائز ہے ، جس طرح بعض لوگوں کو کیش کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اپنے گھر کو فروخت کرنا چاہتا ہو، تو لوگ اس سے گھر کو سستے داموں میں خریدتے ہیں، اب یہاں مالک مجبور ہے اور لوگ اسکی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں ،تو میرا سوال  یہ ہے  کہ یہاں بھی اس کی مجبوری ہے ،تو وہ جائز ہے اور یہ کیوں جائز نہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص کسی کو کوئی چیز فروخت کرے اور مشتری  مبیع پر قبضہ کرے لیکن اس نے  ثمن  ادا نہیں کیا  تو ثمن کی ادائیگی سے پہلے بائع کا مشتری سے   اس چیز کو واپس کم  قیمت پر خریدنا  بیع  عینہ کے حکم  میں آتا ہے جو کہ جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ میں جس شخص نے ادھار گاڑی خریدی ہے او ر اب پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اس شخص پر  واپس  کم قیمت میں فروخت کر رہا ہے   جس سے خریدی  ہے،تو یہ شرعا جائز نہیں کیونکہ یہ بیع عینہ ہے،جس سے احادیث  مبارکہ میں منع کیا گیا ہےاور جب کوئی شخص بوجہ مجبوری اپنی مملوکہ چیز کسی کو مارکیٹ ریٹ سے کم میں فروخت کرتا ہے تو وہ اگر باہم رضا مندی سے ہو تو بیع جائز ہوگی ،تاہم کسی کی مجبوری سے غلط فائدہ اٹھانا شریعت کی نظر میں مناسب طرز عمل نہیں۔

 

قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ﴾( سورة النساء،آية :29)

قال: "ولا ينبغي للسلطان أن يسعر على الناس" لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق" ولأن الثمن حق العاقد فإليه تقديره فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا تعلق به دفع ضرر العامة على ما نبين.( الهداية،كتاب البيوع،فصل في البيع،ج:4،ص:377)

قال (وشراء ما باع بالأقل قبل النقد) ومعناه أنه لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز... ولأن الثمن لم يدخل في ضمان البائع قبل قبضه فإذا عاد إليه عين ماله بالصفة التي خرج من ملكه وصار بعض الثمن قصاصا ببعض بقي له عليه فضل بلا عوض فكان ذلك ربح ما لم يضمن وهو حرام بالنص، بخلاف ما إذا اشتراه بمثل الثمن الأول أو أكثر؛ لأن الربح فيه حصل للمشتري بعدما دخل المبيع في ضمانه.(تبيين الحقائق، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:4، ص:382 (


فتویٰ نمبر : 3751/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں